india

سوال # 158698

مجھے استخارہ کرنے کا مسنون طریقہ معلوم ہے، لیکن میں نے سنا ہے کہ استخارہ کرنے کا ایک دوسرا طریقہ بھی ہے، مگر اس کی معتبریت کا مجھے علم نہیں ہے،اس طریقہ استخارہ میں یہ ہوتاہے کہ نماز تو معمول کے مطابق پڑھی جائے گی مگر دوسری رکعت میں ایاک نعبد و ایاک نستعین کو بار بار پڑھنا چاہئے تاآں کہ اس کا جسم دائیں یا بائیں کی طرف موڑ جائے، اور دائیں کی طرف مڑ جائے تو یہ خیر کی علامت ہے اور اگر بائیں جانب مڑ جائے تو یہ شر کی علامت ہے۔
براہ کرم، بتائیں کہ کیا اس طریقے سے استخارہ کیا جاسکتاہے؟کیا یہ طریقہ از روئے شرع جائز ہے؟یا یہ طریقہ ہمارے کسی اکابر کا مجرب عمل ہے؟ ایک سوال تکبیر اولی سے متعلق ہے کہ کب تک تکبیر اولی کا شمار ہوتاہے؟رکوع کے لیے تکبیر کہنے سے پہلے تک ؟ یا امام کے قرأت شروع کرنے تک؟
براہ کرم، اردو زبان جواب دیں۔

Published on: Feb 15, 2018

جواب # 158698

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 653-498/sn=5/1439



(۱) استخارہ کا یہ طریقہ ثابت نہیں ہے، یہ غیر معتبر ہے، اس پر عمل درست نہیں ہے۔



(۲) اس سلسلے میں مختلف اقوال ہیں، صحیح یہ ہے کہ جو آدمی پہلی رکعت میں امام کے ساتھ شامل ہوجائے خواہ وہ کسی بھی مرحلہ (مثلاً تکبیر تحریمہ کے وقت یا رکوع میں جانے کے وقت) میں شامل ہو اسے تکبیر اول کا ثواب مل جاتا ہے۔ (دیکھیں؛ حاشیة الطحطاوی علی المراقي: ص: ۲۵۸، فتاوی محمودیہ: ۵/ ۵۸۰، وغیرہ)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات