• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 719

    عنوان:

    میں نے اپنے یہاں کے ایک مفتی صاحب سے (سودی رقم سے قبرستان کی صفائی کے سلسلے میں ) معلوم کیا تھا ۔ انھوں نے سود کی رقم سے قبرستان صاف کرنے کی اجازت دیدی تھی کیوں کہ اس میں بہت سی جھاڑیاں اور خاردار پودے اگ آئے تھے۔ چناں چہ میں نے ان کے کہنے کے مطابق عمل کیا، اب میں کیا کروں؟

    سوال:

    میں مئو ناتھ بھنجن کا رہنے والاہوں۔ میں نے اپنے یہاں کے ایک مفتی صاحب سے (سودی رقم سے قبرستان کی صفائی کے سلسلے میں ) معلوم کیا تھا ۔ انھوں نے سود کی رقم سے قبرستان صاف کرنے کی اجازت دیدی تھی کیوں کہ اس میں بہت سی جھاڑیاں اور خاردار پودے اگ آئے تھے۔ چناں چہ میں نے ان کے کہنے کے مطابق عمل کیا، اب میں کیا کروں؟ (بحوالہٴ فتوی سابق: 182/ل)

    جواب نمبر: 719

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 251/ل=251/ل)

     

    سودی مال مال خبیث اور مال حرام ہے، جس کا فقراء اور مساکین پر بلانیت ثواب صدقہ کرنا ضروری۔ قال الشامي و إلا تصدقوا بها لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علی صاحبها. (الشامي ط. زکریا دیوبند: ج9ص553/) سودی رقم اس کے علاوہ کسی اور مصرف پرخرچ کرناجائز نہیں، آپ نے قبرستان کی صفائی میں سود کی جتنی رقم خرچ کی ہے اتنی رقم اپنے مال سے صدقہ کردیں اور آئندہ ایسا کرنے سے احتیاط برتیں ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند