• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 57661

    عنوان: لائف انشورنس میں بیمہ کمپنی جو رقم زائد کرکے دیتی ہے وہ سود ہے

    سوال: میرا سوال یہ ہے کہ لائف انشورنس ہمارے لیے حرام ہے یا نہیں؟اگر یہ حرام ہے تو اس کے پیچھے کیا وجہ ہے؟اگر ہم کہیں کہ لائف انشورنس حرام ہے تو ہمارے مقامی لوگ کہتے ہیں کہ وجہ بتاؤ کہ یہ کیوں حرام ہے؟ براہ کرم، اس کی وجہ بتائیں۔مجھے سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ میں اس کی وضاحت کرسکوں؟

    جواب نمبر: 57661

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 421-440/L=4/1436-U

    لائف انشورنس میں بیمہ کمپنی جو رقم زائد کرکے دیتی ہے وہ سود ہے اسی طرح وسطِ مدت میں انتقال کرنے والے کو ایک بڑی رقم دیتی ہے یہ قمار اور جوا ہے کیونکہ آدمی کا بیچ میں مرنا یا نا مرنا امر موہوم ومتردد ہے ایسے امر پر ملکیت کو معلق کرنا جوا کہلاتا ہے اور شرعاً سود اور قمار دونوں حرام ہیں؛ اس لیے ان دونوں کا مجموعہ لائف انشورنس بھی حرام ہوا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند