• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 604027

    عنوان:

    دو بھائیوں نے بابا كی زمین پر اپنے پیسوں سے مكان تعمیر كیا تھا‏، اس كی تقسیم كس طرح ہوگی؟

    سوال:

    بابا کی جائیداد زمین پر ایک بھائی نے اپنے پیسے سے تعمیر کی تھی اور دوسرے نے بھی کچھ رقم دی تھی اب گھر کی قیمت 90 لاکھ آرہی ہے تو تعمیر کی قیمت 20 لاکھ علیحدہ کرنے کے بعد 70 لاکھ کی 5 بہن اور 3 بھائیوں میں تقسیم کس حساب سے ہوگی؟ جزاک اللہ خیرا

    جواب نمبر: 604027

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:675-528/N=8/1442

     بابا کی زمین پر جن ۲/ بھائیوں کے ذاتی پیسوں سے گھر تعمیر کیا گیا ہے ، اگر اُن دونوں نے بابا کی زمین پر گھر بابا کی اجازت سے صرف اپنے لیے تعمیر کیا ہے، بابا کے لیے یا سب بھائی بہنوں کے لیے تعمیر نہیں کیا ہے تو اس صورت میں تعمیر شدہ گھر میں سب بھائی بہنوں کا حصہ نہ ہوگا؛ بلکہ حسب سرمایہ وہ صرف دو بھائیوں کا ہوگا؛ البتہ گھر کی زمین چوں کہ بابا کی ملکیت ہے؛ لہٰذا وہ مرحوم کے تمام شرعی وارثین میں حسب شرع تقسیم ہوگی۔

    صورت مسئولہ میں بابا مرحوم نے اگر اپنے وارثین میں صرف ۳/ بیٹے اور ۵/ بیٹیاں چھوڑی ہیں تو مرحوم کا سارا ترکہ بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث ۱۱/ حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں سے ہر بیٹے کو ۲، ۲/ حصے اور ہر بیٹی کو ایک، ایک حصہ ملے گا؛ لہٰذا بابا مرحوم کے ترکہ کی زمین بھی تمام شرعی وارثین میں اسی تناسب سے تقسیم ہوگی۔

    الترکة تتعلق بھا حقوق أربعة:جھاز المیت ودفنہ، والدین، والوصیة، والمیراث … کذا فی المحیط (الفتاوی الھندیة،کتاب الفرائض، الباب الأول، ۶:۴۴۷، ط: المطبعة الأمیریة، بولاق، مصر)۔

    الترکة فی الاصطلاح ما ترکہ المیت من الأموال صافیاً عن تعلق حق الغیر بعین من الأموال کما في شروح السراجیة (رد المحتار، کتاب الفرائض،۱۰:۴۹۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

    قال اللّٰہ تعالی:﴿یوصیکم اللّٰہ في أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین﴾ (سورة النساء، رقم الآیة: ۱۱)۔

    ثم العصبات بأنفسھم أربعة أصناف: جزء المیت ثم أصلہ ثم جزء أبیہ ثم جزء جدہ ویقدم الأقرب فالأقرب منھم بھذا الترتیب، فیقدم جزء المیت کالابن ثم ابنہ وإن سفل إلخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الفرائض، فصل فی العصبات، ۱۰: ۵۱۸)۔

    ویصیر عصبة بغیرہ البنات بالابن إلخ (تنویر الأبصار مع الدر والرد، کتاب الفرائض، فصل فی العصبات، ۱۰: ۵۲۲)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند