• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 605580

    عنوان:

    ایک بڑے گاؤں میں پرانی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ كے بارے میں ؟

    سوال:

    میرا سوال کچھ اس طرح سے ہے کہ ہمارا مرکزی گاؤں ہے شگی مچن خیل، جس کے آس پاس اور چھوٹے چھوٹے گاؤں (کوٹہ جات) ہیں۔ ہمارے گاؤں میں ایک بڑی مرکزی جامع مسجد تھی جسمیں ہمارے اباواجداد کے وقت سے جمعہ اور عیدین کی نمازیں پڑھی جاتی تھیں۔ جسمیں آس پاس کے چھوٹے چھوٹے گاؤں سے لوگ جمعہ اور عیدین میں شریک ہوتے تھے ۔ چند سال پہلے ہمارے اِسی گاؤں کے دوسرے سرے پہ روڈ کے کنارے اور ایک اور بڑی مسجد تعمیر ہوئی جوکہ ہماری مسجد سے رقبہ کے لحاظ سے کافی بڑی ہے ۔ جنہوں نے یہ مسجد تعمیر کرائی تھی انہوں نے ہماری پرانی جامع مسجد سے جمعہ اور عیدین کی نمازیں وہاں منتقل کردیں تاکہ جگہ کی کمی کا مسئلہ نہ ہو۔ اس کے بعد سے ہماری اُس پرانی جامع مسجد میں جمعہ اور عیدین کی نمازیں نہیں پڑی جاتیں۔ اب جو نئی جامع مسجد ہے ، اس میں بھی آبادی بڑھنے اور راہ گزاروں کیوجہ سے جمعہ اور عیدین میں جگہ کی کمی پڑ گئی ہے ۔ جگہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں مزید توسیع بھی ممکن نہیں ہے ۔ اب اس صورت میں کیا ہم اُس پرانی جامع مسجد میں بھی نئی جامع مسجد کے ساتھ ساتھ جمعہ اور عیدین کی نمازیں شروع کرسکتے ہیں تاکہ لوگوں کو بھی سہولت ہو اور پرانی جامع مسجد میں دوبارہ سے جمعہ اور عیدین بھی شروع ہوجائیں؟ اس کا شرعی حکم تحریر فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا۔

    جواب نمبر: 605580

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:887-140T/N=12/1442

     جس بستی میں جمعہ کی شرائط پائی جاتی ہوں، وہاں ایک سے زائد متعدد مساجد میں جمعہ کا قیام بلا کراہت درست ہوتا ہے، مسلک ِاحناف کا مفتی بہ قول یہی ہے؛ البتہ عام حالات میں بہتر یہ ہے کہ بستی کی ہر ہر مسجد میں جمعہ قائم نہ کیا جائے؛ بلکہ صرف جامع مسجد میں یا حسب ضرورت ومصلحت چند دیگر مساجد میں جمعہ قائم کیا جائے؛ تاکہ جمعہ کی نماز میں مجمع کی کثرت سے مسلمانوں کی اسلامی شان وشوکت کا اظہار ہو، جو جمعہ کی مشروعیت کا ایک مقصد ہے۔

    پس اگر آپ کا گاوٴں: ستگی مچن خیل، قریہ کبیرہ بہ حکم قصبہ ہے ، یعنی: اُس میں جمعہ کی شرائط پائی جاتی ہیں اور دوسری قدیم جامع مسجد میں جمعہ قائم کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے تو وہاں بھی جمعہ کا قیام بلا کراہت درست ہے اور حسب ضرورت عیدین کی نماز بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اور اگر یہ گاوٴں قریہ کبیرہ بہ حکم قصبہ نہیں ہے ؛ بلکہ قریہ صغیرہ ہے یعنی: اس کی کل آبادی تین ہزار سے بہت کم ہے یا وہاں لوگوں کی روز مرہ کی ضروریات کی دکانیں نہیں ہیں یا برائے نام ہیں اور آس پڑوس کے گاوٴں ، کھیت پات کے فاصلے سے ہیں یا وہ ایک غلوہ(۱۸۳/ میٹر) یا اس سے زیادہ مقدار کے فاصلے پر ہیں تو ایسی صورت میں آپ کے گاوٴں کی کسی بھی مسجد میں جمعہ اور عیدین کا قیام درست نہ ہوگا اگرچہ وہاں کسی شرعی بنیاد کے بغیر عرصہ دراز سے جمعہ اور عیدین کی نماز پڑھی جارہی ہو۔

    (وتوٴدی في مصر واحد بمواضع کثیرة) مطلقاً علی المذھب، وعلیہ الفتوی، شرح المجمع للعیني وإمامة فتح القدیر دفعاً للحرج۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الجمعة، ۳: ۱۵، ۱۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۵: ۲۸، ۲۹، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

    قولہ: ”مطلقاً“: …ومقتضاہ أنہ لا یلزم أن یکون التعدد بقدر الحاجة کما یدل علیہ کلام السرخسي الآتي۔ قولہ: ”علی المذھب“: فقد ذکر الإمام السرخسي أن الصحیح من مذھب أبي حنیفة جواز إقامتھا في مصر واحد في مسجدین وأکثر، وبہ نأخذ لإطلاق ”لا جمعة إلا في مصر“، شرط المصر فقط۔(رد المحتار)۔

    وتقع فرضاً فی القصبات والقری الکبیرة التي فیھا أسواق الخ إلی أن قال: وفیما ذکرنا إشارة إلی أنھا لا تجوز فی الصغیرة إلخ ( رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الجمعة،۳: ۶، ۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۵: ۸، ۹، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

    حضرت مولانا تھانوی نے بہشتی زیور میں لکھا ہے کہ جمعہ کے لیے کم از کم تین چار ہزار کی آبادی ہونی چاہئے (اختری بہشتی زیورمدلل ۱۱: ۸۰، مطبوعہ: کتب خانہ اختری متصل مظاہر علوم سہارن پور)۔

    فتاوی دار العلوم دیوبند ہی میں ہے: عند الحنفیہ بڑے گاوٴں میں جمعہ ہوتا ہے، جو مثل قصبہ کے ہو اور اس میں بازار اور دکانیں ہوں اور چھوٹے قریہ میں جمعہ صحیح نہیں ہوتا(فتاوی دار العلوم دیوبند، ۵: ۳۹،جواب سوال:۲۳۳۵، ت: حضرت مفتی ظفیر الدین صاحب، مطبوعہ: دار العلوم دیوبند)۔

    اور ایک دوسرے فتوی میں تحریر فرمایا: اگر وہ گاوٴں بڑا ہے کہ اس میں بازار وغیرہ ہے، جس کی وجہ سے وہ قصبہ سا معلوم ہوتا ہے تو عند الحنفیہ بھی وہاں جمعہ صحیح ہے (فتاوی دار العلوم دیوبند ۵:۵۶، جواب سوال:۲۳۵۸، ت: حضرت مفتی ظفیر الدین صاحب)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند