• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 150496

    عنوان: قریہٴ صغیرہ میں جمعہ كس طرح بند كرایا جائے؟

    سوال: ہمارے شہر کی آبادی تقریباً ۵۰۰/ سو سے ۷۰۰/ سو افراد کے درمیان ہے، شہر سے اس کا فاصلہ ۷/ کلومیٹر اور بڑا قصبہ سے ۲/ کلومیٹر ہے، اس میں ۱۵۰/ سال سے جمعہ ہو رہا ہے، دوسری طرف بستی میں صرف تین دوکانیں ہیں جب کہ بستی سے تقریباً ۴۰۰/ میٹر کے فاصلہ پر آبادی ہے جس میں ایک طرف ۲۰/ دوکانیں ہیں، اور قریب میں بریلوی حضرات کی مسجد ہے، ان دونوں مسجدوں میں تقریباً ۶/ ماہ سے جمعہ شروع ہوا ہے۔ (۱) کیا ان سب مسجدوں میں جمعہ جائز ہے؟ (۲) بستی اور آبادی والی مسجد میں اگر جمعہ بند کر دیا جائے تو اندیشہ ہے کہ لوگ اہل بدعت یعنی بریلوی حضرات کی مسجد جمعہ پڑھنے چلے جائیں گے، تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟ نوٹ: آبادی کے آس پاس اور بریلوی حضرات کی بستی کی آبادی اوپر لکھی گئی آبادی کے علاوہ ہے، اور بھی قریہ صغیرہ میں آتا ہے۔ شریعت مبارکہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ

    جواب نمبر: 15049601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 946-839/H=8/1438

    (۱) آپ نے اپنے گاوٴں کی آبادی (۵۰۰، ۷۰۰/ افراد کے درمیان) جو کچھ لکھی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قریہٴ صغیرہ ہے کہ جس میں جمعہ اور عیدین درست نہیں ہوتے بلکہ جمعہ کے دن بھی مثل دیگر ایام کے اس گاوٴں میں ظہر کی نماز پڑھنا چاہیے۔

    (۲) اگر آپ حضرات حکمت، بصیرت، نرمی، شفقت سے اہل اسلام کو سمجھائیں گے کہ یہاں جمعہ درست نہیں ہوتا اور ایسی صورت میں ظہر بھی ذمہ سے ساقط نہیں ہوتی نیز ادائے جمعہ میں اور دیگر مفاسد ہیں تو امید ہے کہ ان شاء اللہ اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے اپنے قریب معتمد علیہ ثقہ علمائے کرام اصحابِ فتوی حضرات کو بلاکر معائنہ کرادیں اور وہ حضرات بھی بعد مشاہدہ بستی اور گاوٴں کے مسلمانوں کو سمجھائیں گے تو توقع ہے کہ جمعہ ترک کرکے ظہر ادا کرنے میں جو خدشہ آپ کو محسوس ہورہا ہے وہ پیش نہ آئے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند