• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 1276

    عنوان:

    میرا پہلا سوال زمین کو رہن رکھنے کے سلسلے میں ہے۔ مثلاً مسٹر الف کے پاس پانچ ایکڑ زمین ہے۔ انھوں نے مسٹر ب کو زمین رہن رکھ کر پانچ لاکھ روپئے ایڈوانس لے لیے۔ مسٹر الف اس رقم کو اپنے بزنس یا کسی دوسرے کام میں استعمال کررہے ہیں اور مسٹر ب زمین سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔۔۔۔

    سوال:

    (۱) میرا پہلا سوال زمین کو رہن رکھنے کے سلسلے میں ہے۔ مثلاً مسٹر الف کے پاس پانچ ایکڑ زمین ہے۔ انھوں نے مسٹر ب کو زمین رہن رکھ کر پانچ لاکھ روپئے ایڈوانس لے لیے۔ مسٹر الف اس رقم کو اپنے بزنس یا کسی دوسرے کام میں استعمال کررہے ہیں اور مسٹر ب زمین سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

     علاوہ ازیں دواور باتیں ہیں: (۱لف) کوئی اجارہ طے نہیں ہے یعنی مسٹر ب ہر ایکڑ زمین کے حساب سے مسٹر الف کو کوئی رقم نہیں دے رہے ہیں۔(ب) کچھ اجارہ طے ہے جس میں مسٹر ب ہر ایکڑ کے حساب سے سالانہ مسٹر الف کو کچھ رقم ادا کرتے ہیں۔ مثلاً یہ طے ہوگیا کہ مسٹر ب ہر سال ایک ایکڑ زمین پر2000روپئے مسٹر الف کو بطور اجارہ دیں گے۔ واضح رہے کہ اجارہ کی زمینوں کے موجودہ ریٹ کے مقابلے میں ایک ایکڑپر سالانہ دو ہزار کی رقم بہت معمولی ہے اور جب کہ زمین پر کوئی ایڈوانس رقم نہیں لی گئی ہے۔ براہ کرم، بتائیں کہ ان میں سے کون سا معاملہ جائز ہے؟اگرنہیں، تو کیا اس کا کوئی دوسرا حل بھی ہے؟کیوں کہ ان دنوں اس طرح کے معاملات میں بہت سے لوگ ملوث ہیں۔

    (۲) دوسرا سوال نمازوں سے متعلق ہے۔ مسجد میں بہت سارے لوگ ہیں لیکن امام موجود نہیں۔کچھ لوگ بلا امام نماز پڑھ لیتے ہیں۔ بعد میں انھیں میں سے کوئی صاحب نماز پڑھا دیتے ہیں یا امام صاحب آجاتے ہیں اور جماعت سے نماز پڑھادیتے ہیں۔ کیا جن لوگوں نے تنہا نمازیں پڑھ لی تھیں وہ امام کے ساتھ جماعت میں شریک ہوسکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 1276

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 418/ د= 411/د

     

    (۱) الف کا زمین رہن رکھ کر قرض لینا اوراپنے بزنس میں استعمال کرنا جائز ہے لیکن ب کا اس رہن کی زمین سے فائدہ اٹھانا ناجائزہے : کل قرض جر نفعا فھو ربا قال في الشامي یکرہ للمرتھن أن ینتفع بالرھن وإن أذن لہ الراھن... من أنہ لا یحل للمرتھن ذلک ولو بالإذن لأنہ ربا (شامي: ج۵ ص۳۷۱) قال في الدر لا الانتفاع بہ مطلقا لا باستخدام ولا سکنی ولا إجارة ولا إعارة (ج۵ ص۳۴۲)

    (الف) اجارہ طے نہ ہونے کی صورت کا حکم اوپر کے جواب سے معلوم ہوگیا۔ (ب) کی صورت واضح نہیں ہے اگر اجارہ طے کرکے دوہزار کرایہ لے رہا ہے تو بھی ناجائز ہے جیسا کہ شامی کا حوالہ گذرا کیوں کہ زمین رہن ہوگی اور مرتہن کے ہاتھ کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے۔ لیکن آپ لکھ رہے ہیں کہ کوئی ایڈوانس رقم نہیں لیا اس ایڈوانس سے کیا مراد ہے؟ وہی پانچ ہزار قرض کی رقم؟ اگر یہ مراد ہے تو جب قرض نہیں لیا تو زمین رہن بھی نہیں ہوئی تو کرایہ پر کونسی زمین دے رہا ہے؟ صورت مسئلہ کی وضاحت کریں تو ان شاء اللہ حکم شرعی لکھا جائے گا۔

    (۲) تنہا نماز نہیں پڑھنا چاہیے تھا، امام کا انتظار کرلیتے یا کسی بہتر شخص کو امام بناکر اس کے ساتھ نماز ادا کرنا چاہیے تھا۔ بہرحال جب تنہا فرض نماز پڑھ لیا بعد میں جماعت قائم ہوئی تو جو لوگ فرض پڑھ چکے ہیں وہ ظہر اور عشاء کی نماز میں نفل کی نیت سے شرکت کرلیں۔ اور فجر عصر مغرب میں شرکت نہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند