• عقائد و ایمانیات >> تقلید ائمہ ومسالک

    سوال نمبر: 176557

    عنوان: رفع یدین ، آمین بالجہر اور سینے پر ہاتھ باندھنے كا كیا مسئلہ ہے؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام علماءِ دین شرعِ متین مسئلہ ذیل کے بارے میں ، مقلدین حضرات جب رفع یدین کرتے ہیں، آمین آواز سے کہتے ہیں، سینے پر ہاتھ باندھتے ہیں تو علماء کہتے ہیں صحیح ہے۔ وہی اگر کوئی غیر مقلدین کرتے ہیں تو کہتے ہیں صحیح نہیں ہے۔ لہٰذا آپ سے ادبًا درخواست ہے کہ میری اس جہالت کو آپ کی علم کی روشنی سے دور کریں۔ (نوٹ : میں تو الحمدللہ مقلد ہوں، پر یہ سوال کئی دنوں سے میرے دل میں ہے، اس لئے آپ سے پوچھا، میں تو عوام الناس میں سے ہوں اگر میرے سوال پوچھنے کے انداز میں کوئی غلطی ہو تو معافی چاہتا ہوں)

    جواب نمبر: 17655701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 555-461/D=07/1441

    رفع یدین ، آمین بالجہر اور سینے پر ہاتھ باندھنے کے سلسلے میں دونوں طرح کی احادیث ہیں، بعض حدیثوں سے ان چیزوں کا ثبوت ہوتا ہے اور بعض سے ممانعت ثابت ہوتی ہے، احادیث کے اس اختلاف اور دیگر دلائل کی بنا پر کسی ایک جہت کو ترجیح دینے میں ائمہ کا اختلاف ہوا؛ چنانچہ علماء احناف کے نزدیک ممانعت والی احادیث راجح ہیں اور شوافع کے نزدیک ثبوت والی احادیث راجح ہیں اور ہر شخص اپنے امام کے اجتہاد کی تقلید کا مکلف ہے؛ لہٰذا اگر کوئی مقلد شخص اپنے امام کی تقلید کرتے ہوئے رفع یدین وغیرہ کرتا ہے تو جائز ہے؛ لیکن غیرمقلدین حضرات جو کہ خود اپنے اجتہاد سے رفع یدین اور آمین بالجہر وغیرہ کرتے ہیں، اولاً ان کا اجتہاد معتبر نہیں؛ کیوں کہ وہ اجتہاد کی صلاحیت نہیں رکھتے، نیز امام و مجتہد کی تقلید میں بھی تلفیق اور اتباع ہویٰ کے مرتکب ہوتے ہیں اور یہ جائز نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند