• عقائد و ایمانیات >> تقلید ائمہ ومسالک

    سوال نمبر: 20888

    عنوان:

    میں عرب متحدہ عرب امارات میں کام کرتا ہوں۔ یہاں پر شافعی مسلک چلتاہے ۔ اگر کسی وجہ سے میری پہلی فرض جماعت نکل جائے اور میرے ساتھ کچھ اورلوگ بھی ہوں، اوروہ جماعت کرنا چاہتے ہوں،نیز اس میں مجھے شریک ہونے کے لیے کہیں تو کیا میں شریک ہوجاؤں یا منع کردوں؟ اگر میں شافعی مسلک سے ہوں تو مجھے کیا کرنا چاہئے؟  (۲) حنفی اور شافعی مسلک کے فتوؤں میں کیا فرق ہے؟ اور کس کی تقلید کریں؟

    سوال:

    میں عرب متحدہ عرب امارات میں کام کرتا ہوں۔ یہاں پر شافعی مسلک چلتاہے ۔ اگر کسی وجہ سے میری پہلی فرض جماعت نکل جائے اور میرے ساتھ کچھ اورلوگ بھی ہوں، اوروہ جماعت کرنا چاہتے ہوں،نیز اس میں مجھے شریک ہونے کے لیے کہیں تو کیا میں شریک ہوجاؤں یا منع کردوں؟ اگر میں شافعی مسلک سے ہوں تو مجھے کیا کرنا چاہئے؟  (۲) حنفی اور شافعی مسلک کے فتوؤں میں کیا فرق ہے؟ اور کس کی تقلید کریں؟

    جواب نمبر: 20888

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 494=370-4/1431

     

    (۱) حدود مسجد میں تو دوبارہ جماعت کرنا حنفیہ کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے لہٰذا اگر وہ لوگ خارج مسجد حصہ میں جماعت ثانیہ کررہے ہیں تو آپ ان کے ساتھ شریک ہوسکتے ہیں۔ ورنہ تنہا پڑھ لیں، یہ مسئلہ حنفی مسلک کے مطابق بتلایا گیا ہے، اگر آپ شافعی المسلک ہیں تو اس مسلک کے کسی عالم سے مسئلہ معلوم کریں۔

    (۲) حنفی اور شافعی مسلک کے درمیان بہت سے مسائل اور فتووں میں فرق پایا جاتا ہے دونوں مسلک اہل حق میں سے ہیں۔ جس کی تقلید کرنا آپ کے لیے آسان ہو، یعنی مسائل وغیرہ معلوم کرنے میں دشواری نہ ہو اس کی تقلید کرلیں۔ لیکن ایسا ہرگز نہ کریں کہ بعض مسائل میں حنفی طریقہ پر عمل کریں اور بعض مسائل میں شافعی طریقہ پر کیونکہ یہ تلفیق ہے جو کہ حرام ہے، نیز اس میں اتباع ہوا کا اندیشہ قوی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند