عقائد و ایمانیات - قرآن کریم

Pakistan

سوال # 8310

وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے ستارے بنائے تاکہ تم صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں (ان کے ذریعہ) راستہ معلوم کرسکو۔ بیشک ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔ درج بالا آیات کا مفہوم بیان کردیں۔ اصل میں یہ آیت پڑھ کر میرے ذہن میں علم نجوم کا خیال آیا ہے کیوں کہ ستاروں کا علم تو وہی ہے۔ آپ مجھے وضاحت کردیں اگر یہ بھی علم نجوم ہے تو پھر لوگ کیوں کہتے ہیں کہ ستاروں کا علم غلط ہے۔ اگر غلط ہے تو اس آیت کا کیا مفہوم ہوا؟ (۲) میں نے کالج میں اپنے اسلامیات کے ٹیچر سے سنا تھا کہ امام ابو حنیفہ رحمة اللہ نے ایک دفعہ فتوی دیا کہ اگر کپڑوں پر ایک سکہ کے برابر نجاست یا گندگی ہو تو اس کو صاف کرنا ضروری ہو جاتا ہے اور اگر اس سے کم ہو تو کوئی بھی عبادت کرسکتے ہیں۔ کیا ایسا کوئی فتوی ہے؟ اگرہے تو ٹھیک ورنہ آپ بتائیں کہ کس حد تک نجاست لگی ہو تو صاف کرنا فرض ہو جاتا ہے؟

Published on: Nov 13, 2008

جواب # 8310

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1887=1762/د


 


مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر معارف القرآن میں دیکھ لیں۔ پھر جو بات سمجھ میں نہ آئے اسے معلوم کریں۔ ستاروں کی حرکات اورمنزلیں طے کرنے کا علم بذریعہ مشاہدہ یا بذریعہ علم ہیئت حاصل کرنے میں مضائقہ نہیں ہے۔اس کو سعدو نحس کا ذریعہ سمجھا یا اس سے سعد و نحس کی تعیین کرنا جائز نہیں ہے۔


(۲) نجاست غلیظہ ایک بڑے سے (یعنی ہتھیلی کی گہرائی جو انگلیوں کے جوڑوں کے بعد ہوتی ہے) سے کم ہو تو معاف ہے، یعنی اس کے لگے رہتے ہوئے اگر نماز پڑھ لی تو ادا ہوجائے گی، ایک درہم سے زاید ہونے کی صورت میں دھونا واجب ہے، اور نجاست خفیفہ میں کپڑے یا بدن کے چوتھائی حصہ تک معاف ہے، یعنی کپڑے کے جس حصہ مثلاً دامن آستین پر نجاست لگی ہے اس کا چوتھائی، یا بدن کے جس عضو پر نجاست ہے اس کا چوتھائی مثلاً ہاتھ چہرہ وغیرہ معاف ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات