متفرقات - تصوف

India

سوال # 152050

براہ کرم، بتائیں کہ میں مشت زنی کو کیسے روکوں؟

Published on: Jun 15, 2017

جواب # 152050

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1019-968/N=9/1438



مشت زنی اسلام میں ناجائز وحرام ہے؛ کیوں کہ یہ غلط طریقہ پر شہوت رانی ہے اور طبی اعتبار سے بھی سخت مضر ونقصان دہ ہے، اطبا کہتے ہیں کہ مشت زنی کا عادی عام طور پر نامرد ہوجاتا ہے اور بیوی کے لائق نہیں رہتا اور اس کی صحت بھی برباد ہوجاتی ہے۔ اور ِاس کا بنیادی نقصان اعضائے رئیسہ پر پڑتا ہے۔



اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے اندر خوف خدا پیدا کریں اور ہمت سے کام لیں، خواہ کتنا ہی شدید تقاضہ ہو ،مشت زنی ہرگز نہ کریں، چند بار ایسا کریں گے تو انشاء اللہ آپ کی یہ بدترین عادت ختم ہوجائے گی، نیز بلا ضرورت تنہائی اختیار نہ کریں اور غسل خانہ اور استنجا خانے میں ضرورت سے جلد از جلد فارغ ہوکر باہر آجایا کریں۔اللہ تعالی آپ کو مشت زنی کی بد ترین عادت سے نجات عنایت فرمائیں۔



ولا یحل - أي: الاستمناء بالکف- لہ إن قصد بہ قضاء الشھوة لقولہ تعالی: والذیبن ھم لفروجھم حافظون إلا علی أزواجھم أو ما ملکت أیمانھم إلی أن قال: فمن ابتغی وراء ذلک فأولئک ھم العادون أي: الظالمون المتجاوزون، فلم یبح الاستمتاع إلا بھما فیحرم الاستمتاع بالکف الخ (تبیین الحقائق، ۱: ۳۲۳، ط: المکتبة الإمدادیة، ملتان)، ولا یحل الاستمناء بالکف، ذکرالمشایخ فیہ أنہ علیہ السلام قال: ناکح الید ملعون (فتح القدیر، کتاب الصوم)، والاستمناء حرام وفیہ التعزیر(الجوہرة النیرة، ۲: ۲۴۵، ط: دار الکتاب دیوبند)،وھل یحل الاستمناء بالکف خارج رمضان؟ إن أراد الشھوة لا یحل لقولہ علیہ السلام: ناکح الید ملعون الخ (البحر الرائق، ۲: ۴۷۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات