عبادات - قسم و نذر

INDIA

سوال # 157439

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ اگر زید اپنی بیوی کو یہ کہہ ڈالا کہ میں تم سے بخدا اب ہم بستری نہیں کروگا ، لیکن پھر زید نے ہمبستری کرلیا تو اب ایسی صورت میں زید پر کون سا کفارہ ہوگا ؟ کفارہ کی کیا صورت ہوگی؟ اس کفارہ کا مصرف کیا مدرسہ ہوسکتا ہے ؟ کیوں کہ آج کے دور میں مساکین کی پہچان مشکل سا ہے . مجھے امید ہے کہ آپ کے جواب سے شرحِ صدر حاصل ہو؟

Published on: Jan 3, 2018

جواب # 157439

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:310-267/M=4/1439



صورت مسئولہ میں اگر زید نے مذکورہ قسم کھانے کے بعد چار مہینے کے اندر بیوی سے ہم بستری کرلی تو بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ قسم ٹوٹ جانے پر زید کے ذمہ قسم کا کفارہ واجب ہے، قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکین کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے مدرسہ کے غریب طلبہ کو بھی کھلاسکتا ہے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو دس مسکین کو کپڑے پہنائے جس سے جسم کا اکثر حصہ چھپ جائے اور اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو لگاتار تین روزے رکھے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات