معاملات - سود و انشورنس

India

سوال # 151135

الحمد للہ ! اللہ کے فضل و کرم سے میں اچھا کماتا ہوں اور سارا پیسہ بینک میں سیونگ اکاوٴنٹ میں رکھتا ہوں کیونکہ میری تنخواہ بینک اکاوٴنٹ میں آتی ہے۔
تو میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ کیا میں بینک سے ملے سود کو بچوں کی اسکول فیس جمع کرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہوں؟ کیونکہ آج کل بچوں کے داخلے کے وقت ڈونیشن فیس لیتے ہیں جو کہ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جلد از جلد جواب دیں۔

Published on: May 18, 2017

جواب # 151135

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 895-831/B=8/1438



بینک سے ملی ہوئی سودی رقم کو اپنے بچوں کی اسکولی فیس میں دینا جائز نہیں۔ اسی طرح داخلہ کی فیس یعنی ڈونیشن فیس دینا بھی جائز نہیں۔ سودی رقم مال خبیث ہے اس کو بلانیت ثواب بہت زیادہ لُٹے پٹے لوگوں پر تصدق کردینا چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات