• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 52876

    عنوان: انشورنس کمپنی کا کاروبار سود وقمار پر مشتمل ہے، جن کی حرمت نص قرآنی سے ثابت ہے

    سوال: ہماری کمپنی کے گاہک کے متعلق کچھ سوالات ہیں۔ ہماری کمپنی ہوسٹن ، امریکہ ، میں ایک امریکی کمپنی کا ساحل سمندر پار ایک ڈیولپمنٹ سینٹر ہے، یعنی ہم یہاں کراچی پاکستان میں بیٹھ کر ، اپنی کمپنی کے امریکی ہوسٹن کے لیے کام کرتے ہیں۔ ہم کیا کام کرتے ہیں؟ ہم لوگ آئی ٹی کی فیلڈ ” انفارمیشن منیجمنٹ “ میں کام کرتے ہیں اور نیچے دی گئی تفصیل کے مطابق گاہکوں کے لیے کام کرتے ہیں۔ ہمارے گاہکوں (جو خود بھی کثیرملکی یا بہت بڑی کمپنیوں کے ہوتے ہیں)․․․ان کا ڈاٹا محفوظ کرنے کے طریقے ا ور ڈیژائن (ڈاٹا آرکیٹکچر ) ، ان کا ڈاٹا روزانہ یا ہفتہ وار سسٹم میں لے کر آنے کا طریقہ (ڈاٹا لوڈنگ )، ان کا ڈاٹا پر کچھ حساب کتاب کے معیار اور فارمولے لگانا (حساب کرنا اور ٹرنسفر کرنا وغیرہ) ان کے ڈاٹا سے ان کے لیے رپورٹ تیار کرنا تاکہ وہ اس پر بہت کاروباری فیصلے کرسکیں اور اپنا کاروبار مزید مستحکم اور بڑھاسکیں․․․․ہم یہ کام کرنے کا معاوضہ ان گاہکوں سے امریکہ میں لیتے ہیں ، ہمارے ان گاہکوں سے تین مہینے ، چھ مہینے، کبھی ہفتے اور کبھی سال کے حساب سے معاہدے ہوتے ہیں․․․․․․․ سوال یہ ہے کہ (۱) اگر ہمارا گاہک کسی بھی طرح کی انشورنس کمپنی ہو تو کیا ہمارا اس کے ساتھ کام کرنا اور اس کو مندرجہ بالا خدمات دینا جائز ہے؟ (۲) گر ہمارا گاہک کوئی بینک ہو تو کیا ہمارا اس کے ساتھ کام کرنا اور اس کو مندرجہ بالا خدمات دینا جائزہے؟ (۳) گر جائز نہیں تو ہمارے جو معاہدے ابھی جاری ہیں اورجن کی تکمیل کے لیے ہم پیشہ ورانہ اور قانونی طورپر پابند بھی ہیں ․․․ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ان کو مکمل کیا جائے اور مزید معاہدہ نہ کیا جائے ؟ یا پھر کسی بھی قیمت پر معاہدہ کو شرعی جائز پر توڑا جائے ؟ (۴) اگر جائز نہیں تو جو کمائی ہم کماچکے ، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟؟

    جواب نمبر: 52876

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 843-675/D=8/1435-U (۱، ۲) انشورنس کمپنی کا کاروبار سود وقمار پر مشتمل ہے، جن کی حرمت نص قرآنی سے ثابت ہے انشورنس کمپنی یا بینک دونوں کے حساب کتاب لکھنے میں سود کی لکھاپڑھی بھی کرنی ہوگی اورحدیث میں سود لینے والے سود دینے والے کے ساتھ سود کا حساب کتاب لکھنے والے پر بھی لعنت بھیجی گئی ہے، لہٰذا ایسے قابل لعنت کام سے اپنے کو محفوظ رکھنا ہی بہتر ہے۔ (۳) اگر معاہدہ ختم کرنے میں ناقابل تحمل خسارہ یا دوسرے قسم کے ضرر کا اندیشہ نہ ہو تو ختم کردیں ورنہ مجبورا پورا کردیں۔ (۴) کمائی پر حرام ہونے کا حکم نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ پاکیزہ نہیں ہے۔ انشورنس کمپنی کے ڈاٹا کی آمدنی میں زیادہ خبث ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند