معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 161881

میرے والد صاحب نے 15 سال پہلے اپنی بہنوں سے وراثت کے ایک مکان کے حصے ان کی رضامندی سے خرید کر اس کی قیمت ادا کر دی تھی ، لیکن چچا سے حصہ نہیں خریدا اور نا ہی چچا سے اِس بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی،آج میرے چچا کا ہم سے یہ کہنا ہے کہ یہ مکان میں اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں اور میرے والد صاحب نے جس قیمت پر 15 سال پہلے بہنوں سے حصے خریدے تھے وہ تمام حصے آج اسی قیمت پر مجھے فروخت کر دو۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا چچا کا اِس بات پر ہمیں مجبور کرنا درست ہے کہ ہم 15 سال پہلے والی قیمت پر انہیں حصے فروخت کر دیں۔

Published on: Jun 9, 2018

جواب # 161881

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1082-1005/M=9/1439



صورت مسئولہ میں چچا کا آپ کو ۱۵/ سال پہلے والی قیمت پر حصے فروخت کرنے پر مجبور کرنا درست نہیں، بیع وشراء کا معاملہ تراضی طرفین سے ہونا چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات