معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 148448

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص اپنے مال کو اپنی زندگی میں ہی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا تو لڑکے َاور لڑکی کو برابر دے یا کم زیادہ دے سکتا ہے بہتر کیا ہے ؟ قرآن و سنت کے حوالے سے جواب مطلوب ہے ۔

Published on: Jan 29, 2017

جواب # 148448

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 348-246/Sd=4/1438



زندگی میں اولاد کو برابر دینا مستحب ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص اپنا مال زندگی ہی میں تقسیم کرنا چاہتا ہے، تو بہتر صورت یہ ہے کہ اپنی اور اہلیہ کے لیے ضرورت کے بقدر کچھ مال رکھ کر مابقیہ اپنے لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کر دے ، ہاں کسی کو اس کی ضرورت یا نیکی کی وجہ سے کچھ زیادہ دینا چاہے، تو شرعا اس کی بھی گنجائش ہے۔ عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: لا تجوز وصیة لوارث الا أن تشاء الورثة ۔ ( نصب الرایة: ۴/۴۰۴، کتاب الوصایا، ط: موسسة الریان، لبنان ) عن النعمان بن بشیررضي اللّٰہ عنہ أن أباہ أتی بہ الی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فقال:اني نحلتُ ابني ہذا غلاماً، فقال: أکل ولدک نحلت مثلہ؟ قال: لا، قال: فارجعہ ۔ ( صحیح البخاري، کتاب الہبة، باب الہبة للولد ) وفی صحیح مسلم نقلاً عنہ اّن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال : ألک بنون سواہ ؟ قال: نعم، قال: فکلہم أعطیت مثل ہذا ؟ قال: لا ، قال: فلا أشہدُ علی جور۔ ( الصحیح لمسلم: ۲/۳۷، کتاب الہبات، باب کراہة تفضیل بعض الأولاد في الہبة ) قال في الہندیة : لو وہب شئیاً لأولادہ في الصحة، وأراد تفضیل البعض علی البعض، عن أبي حنیفة رحمہ اللّٰہ تعالی : لابأس بہ اذا کان التفضیل لزیادة فضل في الدین ، وان کانا سواء، یکرہ، وروی المعلی عن أبي یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی أنہ لابأس بہ اذا لم یقصد بہ الاضرار ، وان قصد بہ الاضرار ، سوی بینہم وہو المختار ۔۔۔ولو کان الولد مشتغلاً بالعلم لا بالکسب ، فلا بأس بأن یفضلہ علی غیرہ ۔ ( الفتاوی الہندیة : ۴/۳۹۱، کتاب الہبة، الباب السادس ) قال الحافظ ابن حجر رحمہ اللّٰہ تعالی نقلاً عن الامام أحمد رحمہا اللّٰہ تعالی : یجوز التفاضل ان کان لہ سبب کأن یحتاج الولد لزمانتہ أو نحو ذلک دون الباقین ۔۔۔ ونقل عن الامام أبي یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی تجب التسویة ان قصد بالتفضیل الاضرار ، ونقل عن الجمہور : أن التسویة مستحبة ،،،الخ۔ ( فتح الباري :۵/۲۱۴، باب الہبة للولد، ط: دار المعرفة، بیروت، کذا في شرح الطیبي علی مشکاة المصابیح :۶/۱۸۱، کتاب البیوع ، باب استحباب التسویة بین الأولاد في الہبة ، والدر المختار مع رد المحتار : ۸/۴۳۴، کتاب الہبة، ط: دار الکتاب، دیوبند )



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات