• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 608015

    عنوان: تقسیم و وراثت کا مسئلہ 

    سوال:

    مسئلہ تقسیم و وراثت۔ کیا حکم ہے مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ حاجی مطیع الرحمان مرحوم و حجن مہر النساء مرحومہ (زوجہ مطیع الرحمان) انکی وارثین کی تفصیل یہ ہے ۔ کُل چار لڑکے سبھی شادی شدہ اور صاحب اولاد ہیں، اور کُل پانچ لڑکیاں ہیں یہ بھی شادی شدہ ہیں اور صاحب اولاد ہیں(سوائے ایک کے ) اُن میں بڑی لڑکی مطلقا اور لاولد ہے ، حاجی مطیع الرحمان کی کافی زمین جائیداد ہیں اُنکی اہلیہ حجن مہر النساء مرحومہ کو بھی اُنکی والدہ نے بہت ساری زمین دیا تھا اس میں سے کچھ زمین کو فروخت کرکے مطیع الرحمان اور مہر النساء نے حج بھی کیئے اور تقریبا سارے سات کٹھا زمین اپنی ایک لڑکی کو خلع شدہ ہونے کی وجہ سے نکاح ثانی کی موقع 35 سال قبل مع قبضہ کے دے دیا تھا اور باقی تین لڑکیوں کو بھی والدہ نے اپنے لڑکوں کی شادی کے موقع پر کچھ رسم کی ادائیگی کے طور پر دو کو چار چار کٹھا والد کے نام والی زمین میں سے ایک کو پانچ کٹھا ماں کی نام والی زمین سے دیا ہے ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ والدین کو جو کل جائیداد تقریبا سترہ یا اٹھارہ بیگھا زمین کاشت والی ہے اور پندرہ کٹھا زمین جو مکان وغیرہ کے لیے ہے کیا سبھی جائیداد میں ان کے صرف چار لڑکوں کا حق ہے یا شریعت کے حکم سے ان کی لڑکیوں کو بھی اس میں حق ملے گا قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر مشکور فرمائیں نوٹ:-والدین کے انتقال کے بعد اور پہلے بھی کچھ زمین لڑکے لوگ فروخت کرچکے ہیں اور باقی زمین کو یہ لوگ اپنے اپنے نام غلط طریقے سے کرتے جا رہے ہیں۔

    جواب نمبر: 608015

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:544-87T/L=5/1443

     مذکورہ بالا صورت میں اگر حاجی مطیع الرحمن مرحوم کی وفات کے وقت ان کے والدین، دادا، دادی نانی میں سے کوئی حیات نہیں تھا اسی طرح ان کی اہلیہ مرحومہ حجن مہر النساء کی وفات کے وقت مرحومہ کے والدین، دادا، دادی نانی میں سے کوئی حیات نہیں تھا تو مرحومَین کا تمام ترکہ بعد ادائے حقوقِ مقدمہ علی لمیراث /۱۳حصوں میں منقسم ہوکر دو دو حصے چاروں لڑکوں میں سے ہر ایک کو اور ایک ایک حصہ پانچوں لڑکیوں میں سے ہر ایک کو ملے گا ، والدین نے اپنی حیات میں جو کچھ جائیداد وغیرہ اپنی لڑکیوں کو دیا ہے یہ ان کی طرف سے تبرع واحسان شمار ہوگا اس کی وجہ سے لڑکیوں کا حصہ وراثت سے ساقط یا کم نہ ہوگا ، والدین کے انتقال کے بعد جس قدر جائیداد لڑکوں نے فروخت کردی ہے اس میں جتنی قیمت لڑکیوں کی بنتی ہو وہ لڑکیوں کو دی جائے اور بقیہ جائیداد کو حسبِ شرع مذکورہ بالا حصص کے اعتبار سے تمام ورثاء میں تقسیم کردیا جائے ، کسی بھی لڑکے کا ناجائز طریقے پر جائیداد کو اپنے نام کرانا درست نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند