• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 25422

    عنوان: ہم چار بھائی اور تین بہن ہیں، میری والدہ حیات ہیں ۔ تمام بھائیوں اور بہنوں کی موجودگی میں 18/ سال قبل والد صاحب کا انتقال ہوگیا تھا۔گھر کی شکل میں والد مرحوم نے کچھ جائداد چھوڑی تھی۔ 12/ سال قبل میری دوبہنوں کا انتقال ہوا۔ فی الحال میں ہم چار بھائی ، ایک بہن اور ایک ماں ہیں ، براہ کرم، بتائیں کہ چار بھائی ، ایک بہن اور ماں کے درمیان جائداد کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ کیا جو بہنیں گذر چکی ہیں ان کو بھی شامل کرکے جائداد تقسیم کی جائے گی یا نہیں؟ ایک بہن کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اور دوسری بہن کے پانچ بیٹے اور دوبیٹیاں ہیں ۔ براہ کرم، قرآن کریم اور حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ 

    سوال: ہم چار بھائی اور تین بہن ہیں، میری والدہ حیات ہیں ۔ تمام بھائیوں اور بہنوں کی موجودگی میں 18/ سال قبل والد صاحب کا انتقال ہوگیا تھا۔گھر کی شکل میں والد مرحوم نے کچھ جائداد چھوڑی تھی۔ 12/ سال قبل میری دوبہنوں کا انتقال ہوا۔ فی الحال میں ہم چار بھائی ، ایک بہن اور ایک ماں ہیں ، براہ کرم، بتائیں کہ چار بھائی ، ایک بہن اور ماں کے درمیان جائداد کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ کیا جو بہنیں گذر چکی ہیں ان کو بھی شامل کرکے جائداد تقسیم کی جائے گی یا نہیں؟ ایک بہن کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اور دوسری بہن کے پانچ بیٹے اور دوبیٹیاں ہیں ۔ براہ کرم، قرآن کریم اور حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ 

    جواب نمبر: 25422

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 1570=452-10/1431

    آپ کی دونوں مرحومہ بہنیں چونکہ آپ کے والد کی وفات کے وقت حیات تھیں اس لیے آپ کے والد کے ترکہ میں ان کا بھی حصہ ہوگا، اگر آپ ان دونوں بہنوں کے وفات کی ترتیب (کس کا پہلے انتقال ہوا، اور کس کا بعد میں) نیز ان کے شوہروں کی صراحت (آیا ان دونوں کے شوہر ان دونوں کی وفات کے وقت حیات تھے یا نہیں؟) کرکے استفاء ارسال کریں، تو ان شاء اللہ آپ کے والد کے ترکہ کی تقسیم حسب شرع کردی جائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند