عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

Iran

سوال # 170017

کیا فرماتے ہے مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں : ملک ایران اور صوبہ خراسان میں خواتین کیلئے درسگاہیں اور مدارس کا با قاعدہ انتظام موجود ہے ، تو کیا اس علاقہ کی خواتین تعلیم اور بیان سننے کے غرض سے جمعہ اور تراویح کی نمازوں میں شرکت کرسکتی ہے ؟ بینوا توجروا

Published on: May 17, 2019

جواب # 170017

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:903-832/L=9/1440



عورتوں کو چاہیے کہ اپنی اپنی جگہوں پر فرداً فرداً نماز ادا کیا کریں یہ ان کے حق میں بہتر ہے،عورتوں پر جمعہ کی نماز فرض نہیں اور نہ ہی ان کے لیے جماعت میں حاضری کا حکم ہے ،نیز فقہاء نے عورتوں کے لیے نماز میں شرکت کومنع لکھا ہے خواہ وہ نمازپنجوقتہ ہو،یا تراویح یاجمعہ و عیدین؛اس لیے عورتوں کے لیے تعلیم وبیان یا کسی اور غرض سے جمعہ وعیدین میں شریک ہونا درست نہ ہوگا،اہلِ مدارس کو چاہیے کہ پردہ کی رعایت کے ساتھ وعظ وغیرہ کا نظم مدارس میں ہی کیا کریں۔



عن أم سلمة، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: " خیر صلاة النساء فی قعر بیوتہن "(مسند أحمد ط الرسالة 44/ 195،الناشر: مؤسسة الرسالة) (ویکرہ حضورہن الجماعة) ولو لجمعة وعید ووعظ (مطلقا) ولو عجوزا لیلا (علی المذہب) المفتی بہ لفساد الزمان.(الدر المختار:2/307،باب الإمامة،ط:زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات