• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 2189

    عنوان:

    ہمارے قریب ہی ایک مسجد ہے اور مدرسہ بھی ہے۔ اس مدرسے اور مسجد کی کوئی کمیٹی نہیں ہے۔ قاری صاحب خود ہی انتظامی کام دیکھتے ہیں۔ اس مدرسہ کی جتنی بھی زمین ہے وہ اس قاری کے نام ہے۔ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟ جب کہ وہ ساری زمین قاری صاحب کے پیسے سے نہیں لی گئی بلکہ لوگوں کے چندے، امداد، صدقے اور خیرات سے لی گئی۔ قاری صاحب کو اگر کوئی آدمی کہے کہ حساب چیک کروایئے کہ کتنے پیسے آئے اور کتنے صرف ہوئے، تو وہ کسی کو چیک نہیں کراتے۔ کیا یہ عمل ٹھیک ہے؟ ایسی صورت حال میں اہل محلہ کو کیا کرنا چاہیے؟ مسجد اور مدرسہ کی زمین کس کے نام ہونی چاہیے؟ اب جب کہ یہ ساری زمین قاری صاحب کے نام ہے، کیا اس میں نماز بلا کراہت ٹھیک ہے؟

    سوال:

    ہمارے قریب ہی ایک مسجد ہے اور مدرسہ بھی ہے۔ اس مدرسے اور مسجد کی کوئی کمیٹی نہیں ہے۔ قاری صاحب خود ہی انتظامی کام دیکھتے ہیں۔ اس مدرسہ کی جتنی بھی زمین ہے وہ اس قاری کے نام ہے۔ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟ جب کہ وہ ساری زمین قاری صاحب کے پیسے سے نہیں لی گئی بلکہ لوگوں کے چندے، امداد، صدقے اور خیرات سے لی گئی۔ قاری صاحب کو اگر کوئی آدمی کہے کہ حساب چیک کروایئے کہ کتنے پیسے آئے اور کتنے صرف ہوئے، تو وہ کسی کو چیک نہیں کراتے۔ کیا یہ عمل ٹھیک ہے؟ ایسی صورت حال میں اہل محلہ کو کیا کرنا چاہیے؟ مسجد اور مدرسہ کی زمین کس کے نام ہونی چاہیے؟ اب جب کہ یہ ساری زمین قاری صاحب کے نام ہے، کیا اس میں نماز بلا کراہت ٹھیک ہے؟

    جواب نمبر: 2189

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1468/ ھ= 1149/ ھ

     

    مقامی یا قریبی دو تین علمائے کرام اصحابِ فتویٰ حضرات سے درخواست کریں وہ مذکور فی السوٴال قاری صاحب سے تحقیق کرکے آپ حضرات کو حکم شرعی سے مطلع کردیں گے۔ ان شاء اللہ!


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند