• عبادات >> اوقاف ، مساجد و مدارس

    سوال نمبر: 36188

    عنوان: غیر مسلم کا پیسہ مسجد مدرسہ میں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟ اسی طرح انکے یہاں افطار وغیرہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ انکی کمائی کا کوئی بھروسہ نہیں، حلال ہے یا حرام؟ بہت سے علما ء کہتے ہیں کہ جائز ہے لیکن کیسے جائز ہے؟ اسکی کوئی دلیل۔

    سوال: غیر مسلم کا پیسہ مسجد مدرسہ میں لگا سکتے ہیں یا نہیں؟ اسی طرح انکے یہاں افطار وغیرہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ انکی کمائی کا کوئی بھروسہ نہیں، حلال ہے یا حرام؟ بہت سے علما ء کہتے ہیں کہ جائز ہے لیکن کیسے جائز ہے؟ اسکی کوئی دلیل۔

    جواب نمبر: 36188

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 76=87-2/1433 اصل یہ ہے کہ عام لوگوں سے حسن ظن رکھنے کے لیے کسی دلیل کی حاجت نہیں، البتہ سوء ظن کے لیے دلیل کی حاجت ہے، بغیر کسی وجہ شرعی اور بلادلیل شرعی کسی کے ساتھ برا گمان قائم کرلینا برا ہے، اس کا کسی کو حق نہیں، البتہ اپنی ذات کی حد تک کوئی تقویٰ اختیار کرے اور دل جس کے مال وغیرہ پر مطمئن نہ ہو خواہ وہ صاحب مال مسلم ہو یا غیر مسلم اوراس کے مال سے حکمت وحسن انداز سے بچتا رہے، تو یہ بھی مستحسن قدم ہے لیکن دوسروں کو حق حاصل نہیں اور نہ ہی یہ مقدار (بھروسہ نہ ہونا یا اپنا دل مطمئن نہ ہونا) مسلم یا غیرمسلم کے مال کو قطعاً حرام قرار دینے کے لیے کافی ہے، یہ تو مال سے متعلق اصولی کلام ہے، جو مختصرا عرض کردیا۔ درپیش مسئلے میں حکم یہ ہے کہ مسجد ومدرسہ میں غیر مسلم سے پیسہ لینے یا لگانے کی ابتداء درخواست کرنا کراہت سے خالی نہیں، حمیتِ ایمانی وغیرت اسلامی کے بھی سخت خلاف ہے، البتہ اگر کوئی غیرمسلم نیک نیتی سے نیک کام سمجھ کردے اور ذمہ داران کا دل گواہی دیتا ہو کہ لے کر دینی کام میں لگادینے کی وجہ سے کسی مفسدہ وخرابی کا اندیشہ نہیں ہے تو قبول کرلینے کی گنجائش ہے اور اگر خرابیوں کا اندیشہ ہو یا کسی دلیل سے اس کے مال کے حرام وغصب وغیرہ کا ہونا ظاہر ہو تو لینا جائز نہیں اور زبردستی دیدے اور واپس کرنے میں فتنہ کا اندیشہ ہو تو لے کر چپکے سے غرباء فقراء مساکین محتاجوں کو دیدیا جائے، یہی حکم افطاری کا بھی ہے بلکہ افطاری میں تو یہ امر بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ افطاری کی و جہ سے مسجد کی جماعت مغرب فوت نہ ہو، خواہ افطاری کا نظم مسلمان کی طرف سے ہو یا غیرمسلم کی طرف سے ہو، نیز یہ بہی امر قابل لحاظ رہے کہ کبھی کبھار اس قسم کے میں شرکت کی نوبت آجائے تو خیر مگر کثرت سے اس قسم کی افطار پارٹیوں میں شرکت کرکے رمضان المبارک جیسے بابرکت اوقات اور عبادات وغیرہ کو ضائع نہ کیا جائے کہ یہ دنیا وآخرت کا بہت بڑا خسارہ ہے، علمائے کرام کا منصب حدودِ شرعیہ کو ملحوظ رکھ کر احکام اسلام کی طرف رہنمائی کرنا ہے اس لیے بغیر وجہ شرعی اور بلا دلیل شرعی کسی کے مال پر حرام ہونے کا حکم عائد نہیں کرتے، امید ہے کہ اب کچھ اشکال نہ رہے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند