عبادات - قسم و نذر

india

سوال # 65912

اگر کسی شخص نے قرآن پاک کی جھوٹی قسم کھائی ہو تو اس کوکیا کرنا ہوگا؟

Published on: Jun 28, 2016

جواب # 65912

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 720-794/sd=9/1437

قرآن کریم کی جھوٹی قسم کھانا ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے، اگر کسی شخص نے جان بوجھ کر قرآن کریم کی جھوٹی قسم کھائی ہے، تو اُس کے لیے توبہ و استغفار ضروری ہے۔ عن عمران بن حصین رضي اللّٰہ عنہ قال: قال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من حلف علی یمین مصبورة کاذباً، فلیتبوأ بوجہہ مقعدہ من النار۔ (سنن أبي داوٴد / باب التغلیظ في الیمین الفاجرة ۲/۱۰۶) الیمین یمینان: یمین تکفر، ویمین فیہا الاستغفار، فالیمین التي تکفر فالرجل یقول: واللّٰہ! لأفعلن، والتي فیہا الأستغفار، فالذي یقول: واللّٰہ لقد فعلت۔ (کتاب الأثا ر / باب من حلف وہو مظلوم ۱۴۱ کراچی) ولا یقسم بغیر اللّٰہ تعالیٰ کالنبي والقرآن والکعبة، قال الکمال: ولا یخفی أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فیکون یمینًا۔ (الدر المختار مع الشامي، کتاب الأیمان / مطلب في القرآن ۵/۴۸۴ زکریا، کذا في فتح القدیر / باب ما یکون یمینًا وما لا یکون یمینًا ۵/۶۹، مجمع الأنہر / کتاب الأیمان ۲/۲۷۶ کوئٹہ) وہي غموس، تغمسہ في الإثم ثم النار، وہي کبیرة مطلقًا إن حلف علی کاذب عمدًا، کواللّٰہ ما فعلت کذا عالماً بفعلہ یأثم بہا فتلزمہ التوبة۔ (تنویر الأبصار مع الدر المختار، کتاب الأیمان / مطلب في حکم الحلف بغیرہ تعا لیٰ ۵/۴۷۴ زکریا)

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات