عبادات - قسم و نذر

India

سوال # 167881

(۱) اگر منت یا نذر زبان سے نہیں کہی بلکہ گنگاتے ہوئے کہی زبان سے نہیں کہی مطلب جبہا کا استعمال نہیں کیا تو کیا اس کو پورا کرنا واجب ہے؟ مجھے منت مانگی نہیں ہے اور مجھے وہم ہوتاہے کہ منت نہ میرے سے مانگی جائے ، مجھے لگتاہے کہ میرے سے گنگناتے یا جبھاہی لیتے ہوئے میرے سے روزے کا کچھ اور میں نے کہہ دیا۔
(۲ ) ایسا دماغ میں آتاہے کہ منت مانگ لیں فلاں کام کے لیے جب کہ مجھے نہیں مانگنی، سانس کے ذریعہ میں کوئی نذر کہہ بھی دیتاہوں پر میری نیت نہیں ہوتی، زبان سے نہیں کہتا، مطلب جبہاکا استعمال نہیں کرتا، تو کیا ایسے سانس کے ذریعہ یا گنگناتے ہوئے کہنے سے کیا منت ہوجاتی ہے؟
(۳) منت یا نذر مانگنے میں نیت کی بھی ہونا ضروری یا صرف زبان سے کہنے سے ہوجاتی ہے؟
اسے تفصیل سے بیان کریں۔ آپ کا بہت بڑا احسان ہوگا۔ شکریہ

Published on: Jan 17, 2019

جواب # 167881

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 599-495/B=05/1440



نذر منعقد ہونے کے لئے زبان سے تلفظ ضروری ہے لہٰذا زبان کی حرکت کے بغیر گنگنانے سے، یا وہم ہو جانے سے، یا سانس کے ذریعہ (جس میں تلفظ نہ ہو) کہنے سے نذر منعقد نہیں ہوگی۔



(۲) نذر و منت کے صریح الفاظ صرف زبان سے کہہ دینے سے نذر منعقد ہو جائے گی، نیت کرنا ضروری نہیں۔ وأما الیمین باللہ؛ فلا یتوقف علیہا فینعقد إذا حلف عامداً أو ساہیاً أو مخطئاً ، أو مکرھا ، (الأشباہ والنظائر ، القاعدة الأولی: ۱/۹۵، زکریا دیوبند) وفي الدر المختار: ولو الحالف مکرہاً أو مخطئاً أو ذاہلاً أو ساہیاً أو ناسیاً ۔ (الدر المختار، کتاب الأیمان: ۵/۴۷۹، ط: زکریا) ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات