A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: models/quesans_details.php

Line Number: 93

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Trying to get property of non-object

Filename: models/quesans_details.php

Line Number: 93

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: Cannot modify header information - headers already sent by (output started at /homepages/36/d162900626/htdocs/darulifta/system/core/Exceptions.php:186)

Filename: libraries/Session.php

Line Number: 689

Darul Ifta, Darul Uloom Deoband India

Pakistan

سوال # 156172

اسلاف کے نزدیک جمعہ کا دن بہت اہمیت کا حامل تھا بعض نے تو یہاں تک کہا ہے کہ: " من استقامت لہ جمعتہ، استقام لہ سائر أسبوعہ" " جس کے لیے جمعہ کا دن درست ہو گیا اس کے ہفتے کے سارے ہی دن درست ہو جائیں گے ۔" جمعہ کے روز بھی عصر کے بعد کا وقت انتہائی قیمتی شمار ہوتا ہے خصوصا اس کی آخری گھڑیاں۔ ابن القیم رحمہ اللہ اس بارے میں کہتے ہیں: " اور یہ (قبولیت کی) گھڑی عصر کے بعد کی آخری گھڑی ہے جس کی تعظیم ساری ملتوں کے لوگ کرتے ہیں۔" (زاد المعاد 384/1) ۱/۹۳۶، موٴسسة الرسالة۔ مفضل بن فضالة جب جمعہ کے دن نماز عصر پڑھ لیتے تو مسجد کے کسی خالی کونے میں تنہا بیٹھ جاتے اور مسلسل دعائیں کرتے رہتے یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا۔ (اخبار القضاة ص۶۴۱) طاووس بن کیسان جب جمعہ کے روز عصر کی نماز ادا کر لیتے تو قبلہ کی جانب ہو کر بیٹھ جاتے اور مغرب تک کسی سے بھی کوئی بات نہ کرتے (گویا یہ سارا وقت مسلسل دعا میں گزارتے ۔) (تاریخ واسط ص۱۸۶) سعید بن جبیر جب جمعہ کے روز عصر کی نماز پڑھ لیتے تو مغرب تک وہ کسی سے کوئی بات نہ کرتے ۔ یعنی وہ دعا کرنے میں ہی مشغول رہتے ۔ (زاد المعاد 382/1 ص۳۹۴) صالحین میں سے کسی کا کہنا ہے کہ: " میں نے اللہ سبحانہ و تعالی سے جمعہ کی عصر اور مغرب کے درمیان جو بھی دعا کی اللہ سبحانہ و تعالی نے اسے قبولیت سے نوازا حتی کہ مجھے اپنے رب سے حیا آنے لگی۔" ابن عساکر نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ: "صلت بن بسطام بینائی سے محروم ہو گئے تو ان کے بھائی ان کے لیے جمعہ کے دن عصر کے وقت دعائیں کرنے بیٹھ گئے پھر مغرب سے پہلے انہیں ایک چھینک آئی جس کے بعد ان کی بینائی لوٹ آئی۔" (تاریخ دمشق) کیا یہ روایات درست ہیں؟

Published on: Dec 9, 2017

جواب # 156172

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:188-191/N=3/1439



 متعدد صحیح احادیث میں جمعہ کے دن قبولیت دعا کی گھڑی کا ذکر آیا ہے ، اُس وقت کوئی بھی مسلمان اگر اللہ تعالی سے دعا کرتا ہے تواللہ تعالی اس کی دعا قبول فرماتے ہیں؛ البتہ اس گھڑی کے متعلق مختلف اقوال ہیں اور مشہور دو قول ہیں، اور ان دونوں میں بھی راجح قول یہ ہے کہ یہ گھڑی عصر اور مغرب کے درمیان رہتی ہے اور بعض نے فرمایا:یہ گھڑی غروب آفتاب سے کچھ پہلے ہوتی ہے؛ اس لیے بہت سے سلف صالحین جمعہ کے دن عصر سے مغرب تک دعاوٴں میں مشغول رہتے تھے اور بعض مغرب سے کچھ پہلے دعا کا اہتمام فرماتے تھے، آپ نے اس سلسلہ میں جو مختلف با حوالہ اقوال اور واقعات نقل فرمارہے ہیں، ان میں کچھ استبعاد نہیں ہے، میں نے اکثر اقوال کی مراجعت کی ہے اور انھیں صحیح پایا ہے؛ اس لیے جمعہ کے دن عصر سے مغرب تک یا مغرب سے کچھ پہلے دعاوٴں کا اہتمام کرنا چاہیے؛ البتہ ہر شخص انفرادی طور پر دعا کا اہتمام کرے، اجتماعی دعا کا اہتمام بالکل نہ کیا جائے ؛ کیوں کہ اس موقع پر اجتماعی دعا ثابت نہیں اور شدہ شدہ یہ چیز آئندہ بدعت ہوجائے گی؛ اس لیے اس سے احتراز چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات