Saudi Arabia

سوال # 148742

آٹھ سال پہلے ہمارے والد صاحب رحمة اللہ علیہ کا انتقال ہوا تھا اور اب دس دن پہلے والدہ محترمہ صاحبہ کا بھی انتقال ہو گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
(۱) آپ حضرات سے ادباً درخواست ہے کہ ان کی مغفرت کے لیے دعا فرمائیں۔
(۲) اب ہم کو ان کی اولاد کے لیے ایصال ثواب کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ بتادیں۔
(۳) ہم لوگ گلبرگہ شریف (کرناٹک) میں رہتے ہیں اور دعوت و تبلیغ کے کام سے لگے ہوئے ہیں۔
(۴) اسی لیے کیا ان کے ایصال ثواب کے لیے انتقال کے تیسرے دن کچھ کھانا وغیرہ پکا کر محلہ کے لوگوں کو ایصال ثواب کے نیت سے کھلائیں؟
(۵) کیا یہ چیز اسلام میں جائز ہے یا نہیں؟
(۶) اگر ہم لوگ دعوت نہ دیں تو لوگ ہمیں نہ جانے وہابی یا تبلیغی وغیرہ کہتے ہیں۔ جزاک اللہ خیر

Published on: Feb 28, 2017

جواب # 148742

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 677-594/L=5/1438



(۱) تا (۶) ایصالِ ثواب کا طریقہ یہ ہے کہ مرحومین کے اعزاء واقرباء اپنے اپنے طور پر اعمالِ خیر، نماز روزہ، تلاوتِ قرآن، صدقہ وغیرہ کرکے اس کا ثواب مرحومین کو پہنچادیں، خواہ اعمال کرنے سے پہلے یہ نیت کرلیں کہ اے اللہ ان کا ثواب مرحومین کو ملے یا اعمال کرنے کے بعد زبان سے کہہ دیں کہ اے اللہ ان کا ثواب مرحومین کو پہنچادے، ایصالِ ثواب کے لیے تیسرے دن کچھ کھانا وغیرہ پکاکر محلہ کے لوگوں کو کھلانا ثابت نہیں، یہ بدعت ہے؛ اگر کھانا کھلاکر ہی ایصالِ ثواب کرنا ہو تو دن کی تعیین کے بغیر کچھ بناکر غرباء فقراء وغیرہ کو کھلادیں ان شاء اللہ اس کا ثواب مرحوم کو پہنچ جائے گا، اللہ رب العزت تمام مرحومین مومن مرد اور مومن عورتوں کی مغفرت فرمائے اور ہم سب کو اپنی مرضیات کے مطابق چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات