عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 13546



اگر
کوئی آدمی یا تبلیغی جماعت کے لوگ ہمارے پاس آئیں او روہ کہنے لگیں کہ چلو ہمارے
ساتھ اور ہم نے یہ کہہ دیا کہ ان شاء اللہ چلو آرہے ہیں، یا کسی کو یہ کہہ دیا کہ
ان شاء اللہ میں خود جاکر دیکھ لوں گا اور پھر ہم ان جماعت والوں کے ساتھ نہیں گئے
یا کہنے کے مطابق وہ کام نہیں کیا تو کیا ایسی صورت میں (جس صورت میں ہم نے ان شاء
اللہ کہا) کچھ گناہ ہوگا؟ ہوا تو اس کا کفارہ بتائیں؟ (
۲)کچھ لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ دنیا میں روپیہ
او رپیسہ ہی سب کچھ ہے، خدا کے بعد دنیا میں دوسرا خدا پیسہ ہی ہے۔ کیا یہ کہنا
گناہ ہوا، ایسی صورت میں کیا آدمی دین سے پھر جائے گا؟



Published on: Jun 23, 2009

جواب # 13546

بسم الله الرحمن الرحيم



فتوی:
898=713/ل



 



نیک کام
کا وعدہ کرنے والے کو حتی المقدور اس کے پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اگر کسی
مجبوری کے سبب وہ کام نہ ہوسکا تو اس پر کچھ گناہ نہیں، اور نہ ہی اس پر کوئی
کفارہ ہے۔



(۲) مذکورہ
بالا جملہ کہنا روپے کی اہمیت بتلانے کے لیے ناجائز اور گناہ ہے، اس کا قائل کافر
یا مرتد نہیں ہوا، البتہ اس طرح کے جملہ سے احتراز ضرور ی ہے۔




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات