• عقائد و ایمانیات >> دعوت و تبلیغ

    سوال نمبر: 606059

    عنوان:

    تبلیغی جماعت کا کام کیا ہے؟ فرض/ واجب/ سنت یا مستحب؟ اور اس میں وقت لگانے کا طریقہ کیا ہے؟

    سوال:

    تبلیغی جماعت کے طریقہ دعوت و تبلیغ کے بارے میں تو فتویٰ موجود ہے کہ یہ مروجہ طریقہ مباح ہے۔ اس سے واضح ہے کہ مروجہ تبلیغ کا طریقہ کار دین نہیں ہے? یہ دین کے کام کو کرنے کا ایک جائز طریقہ ہے? جبکہ غلو سے بچا جائے۔ لیکن اس مباح طریقہ سے جو کام تبلیغی جماعت انجام دیتی ہے? وہ تو دین ہے? اب ہمیں اس بات کو سمجھنے میں دشواری ہے کہ جو کام جماعت اپنے مخصوص طریقہ میں انجام دیتی ہے? وہ فرض کہلائے گا? یا واجب یا سنت یا مستحب؟ جس طرح مروجہ تبلیغ کے طریقہ کے متعلق آپ حضرات نے شرعی حکم واضح فرمایا ہے کہ یہ مباح ہے اسی طرح مروجہ تبلیغ کے طریقہ سے کیے جانے والی دینی خدمت کا شرعی حکم بھی واضح فرما دیں? کہ یہ دین کی محنت جو تبلیغی جماعت انجام دیتی ہے? یہ فرائض? واجبات یا مؤکدات میں سے ہے یا مستحبات میں سے ہے؟

    جواب نمبر: 606059

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 20-18/B=02/1443

     فی نفسہ دین کی تبلیغ فرض ہے لیکن نماز کی طرح تمام مسلمانوں پر تبلیغ کرنا فرض عین نہیں؛ بلکہ یہ دعوت و تبلیغ فرض علی الکفایہ ہے کہ دنیا کے کچھ مسلمانوں نے بھی یہ فریضہ انجام دیا تو سب مسلمانوں کے سر سے فریضہ اتر جائے گا۔ قرآن میں ہے: ولتکن منکم امة یدعون إلی الخیر ویأمرون بالمعروف وینہون عن المنکر الخ جماعت کے لوگ جو طریقہ اختیار کر رہے ہیں یہ سب مباح و مستحب ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند