• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 12364

    عنوان:

    کراچی میں ایک جماعت ہے جو قربانی کی کھالیں زبردستی لے لیتی ہے۔ کیا ان کو کھال دینے سے قربانی ہو جائے گی، یعنی اگر کھال کی مزید قیمت صدقہ نہ کی جائے تو؟ ان کو کھال نہ دینا ممکن نہیں وہ نہایت بدمعاش لوگ ہیں اور کسی حد تک جاسکتے ہیں؟

    سوال:

    کراچی میں ایک جماعت ہے جو قربانی کی کھالیں زبردستی لے لیتی ہے۔ کیا ان کو کھال دینے سے قربانی ہو جائے گی، یعنی اگر کھال کی مزید قیمت صدقہ نہ کی جائے تو؟ ان کو کھال نہ دینا ممکن نہیں وہ نہایت بدمعاش لوگ ہیں اور کسی حد تک جاسکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 1236401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 818=683/د

     

    قربانی کی کھال فروخت کرنے کے بعد ان کی قیمت غرباء مساکین پر صدقہ کرنا واجب ہے، جو لوگ زبردستی قربانی کی کھال لے جاتے ہیں ان کا زبردستی بغیر مالکان کی خوش دلی کے لے جانا گناہ ہے، ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایسا کریں، بلکہ مالکان کو راضی کرکے لے جائیں اور فروخت کرکے جن مصارف میں خرچ کریں گے ان کی وضاحت کرکے مالکان کو مطمئن کردیں۔ بہرصورت آپ لوگوں کی قربانی صحیح اور درست ہوگئی، کھال کی قیمتوں کے غلط استعمال کرنے کے ذمہ دار لے جانے والے ہوں گے، قربانی کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند