معاملات - حدود و قصاص

India

سوال # 50171

شریعت نے زانی کے لیے رجم کی حد لگائی ہے یعنی جو کوئی مرد یا عورت زناکا ارتکاب کرے وہ اللہ نظروں میں ناپاک ہوتے ہیں اوران کی ناپاکی تو رجم سے دو ہوجائے گی یا پھر جہنم کی آگ ہی انہیں پاک کرے گی ، تو اشکال یہ وارد ہوتاہے کہ جن کے ساتھ زبردستی کا معاملہ ہوتاہے یا جو نابالغ ہوتاہے جن پر جبر کیا گیا ہو ان کے بارے میں شریعت کا کیاحکم ؟

Published on: Dec 26, 2013

جواب # 50171

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 219-216/N=2/1435-U

جس نابالغہ یا بالغہ لڑکی یا عورت کے ساتھ زنا میں جبر واکراہ کا معاملہ کیا گیا اور وہ آخر تک اس عمل پر راضی نہیں ہوئی تو دنیا وآخرت میں اسے گوئی گناہ یا سزا نہ ہوگی، مستدرک حاکم (۲: ۱۹۸ مطبوعہ دارالمعرفة بیروت) میں ہے: عن ابن عباس رضي اللہ عنہما قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ”تجاوز اللہ عن أمتي الخطأ والنسیان وما استکرہوا علیہ“ وہذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ“ اوردرمختار (مع الشامی: ۶: ۵، ۶ مطبوعہ مکتبہ زکریا دیوبند میں ہے: والزنا الموجب للحد وطء․․․ مکلف خرج الصبي والمعتوہ ناطق․․․ طائع في قبل مشتہاة حالا أو ماضیا خرج المکرہ اھ․

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات