• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 179790

    عنوان:

    وصیت کا طریقہ کیا ہے ؟ کن چیزوں کی وصیت کی جا سکتی ہے ؟

    سوال:

    حضرت وصیت کرنے کا صحیح اور معتبر طریقہ کیا ہے ؟ شرعاً کونسی وصیت معتبر ہوتی ہے اور کس طرح کی وصیت کا کوئی اعتبار نھیں ہے ؟ کسی کا یہ کہنا کہ یہ میری وصیت ہے کہ مجھے فلا فلا جگہ دفن کیا جائے ۔ اس طرح محض زبان سے وصیت کردینا کافی ہے یا اسطرح صرف زبانی کھنے کا کوئی اعتبار نہیں ؟ برائے مہربانی تفصیل کے ساتھ جواب ارسال فرمائیں۔

    جواب نمبر: 17979014-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:8-4/SN=1/1442

     وصیت کا طریقہ یہ ہے کہ دو چار سمجھدار لوگوں کو گواہ رکھ کر وصیت کرے ۔ اگر زبانی کے ساتھ ساتھ کوئی تحریر بھی لکھ دے ؛ تاکہ بعد میں ثبوت رہے تو زیادہ بہتر ہے ۔

    (۲) اپنے ان قرابت داروں کے لیے جو شرعی وارث نہ ہوں، اسی طرح اپنے محسنین کے حق میں اسی طرح کار خیر میں صرف کرنے کے مقصد سے وصیت کی جاسکتی ہے ، اس طرح کی وصیتوں پر عمل درآمد حسب شرائط واجب وضروری ہے، نیز جو عبادات (مثلا نماز روزہ زکات وغیرہ)چھوٹ گئی ہوں ، فدیہ وغیرہ کے ذریعے ان کی تلافی کی بھی وصیت کی جاسکتی ہے؛ بلکہ ان کی وصیت کرنا تو شرعا ضروری اور واجب ہے ، اس کے علاوہ وصیت کی اور بھی شکلیں ہیں۔بہشتی زیور وغیرہ میں تفصیلات دیکھی جاسکتی ہیں ۔

    (وہی) علی ما فی المجتبی أربعة أقسام (واجبة بالزکاة) والکفارة (و) فدیة (الصیام والصلاة التی فرط فیہا) ومباحة لغنی ومکروہة لأہل فسوق (وإلا فمستحبة) (الدر المختار) (قولہ وہی علی ما فی المجتبی) عبارتہ والوصیة أربعة أقسام واجبة کالوصیة برد الودائع والدیون المجہولة، ومستحبة کالوصیة بالکفارات وفدیة الصلاة والصیام ونحوہا ومباحة کالوصیة للأغنیاء من الأجانب والأقارب، ومکروہة کالوصیة لأہل الفسوق والمعاصی اہ وفیہ تأمل لما قالہ فی البدائع الوصیة بما علیہ من الفرائض والواجبات کالحج والزکاة والکفارات واجبة اہ شرنبلالیة. ومشی الزیلعی علی ما فی البدائع، وفی المواہب تجب علی مدیون بما علیہ للہ تعالی أو للعباد، وہذا ما مشی علیہ المصنف خلافا لما فی المجتبی من التفرقة بین حقوقہ تعالی، وحقوق العباد وما مر من سقوط ما وجب لحقہ تعالی بالموت لا یدل علی عدم الوجوب لأن المراد سقوط أدائہا، وإلا فہی فی ذمتہ فقول الشارح علی ما فی المجتبی: أی من حیث التقسیم إلی الأربعة تأمل (قولہ ومباحة لغنی) لعل المراد إذا لم یقصد القربة أما لو أوصی لہ لکونہ من أہل العلم أو الصلاح إعانة لہ أو لکونہ رحما کاشحا أو ذا عیال فینبغی ندبہا تأمل (قولہ ومکروہة لأہل فسوق) یرد علیہ ما فی صحیح البخاری لعل الغنی یعتبر فیتصدق والسارق یستغنی بہا عن السرقة والزانیة عن الزنا وکان مرادہ ما إذا غلب علی ظنہ أنہ یصرفہا للفسوق والفجور اہ رحمتی․ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 10/ 336، کتاب الوصیة، مطبوعة: مکتبة زکریا ، دیوبند)

    (3) یہ وصیت کہ مجھے فلاں جگہ دفن کیا جائے شرعا واجب العمل نہیں ہے ؛ باقی اگر کوئی شرعی مانع نہ ہو تو عمل کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔

    أوصی بأن یصلی علیہ فلان أو یحمل بعد موتہ إلی بلد آخر أو یکفن فی ثوب کذا أو یطین قبرہ أو یضرب علی قبرہ قبة أو لمن یقرأ عند قبرہ شیئا معینا فہی باطلة سراجیة وسنحققہ․ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 10/ 361، کتاب الوصیة، مطبوعة: مکتبة زکریا ، دیوبند)

    (4) وصیت محض زبانی بھی کی جاسکتی ہے ، تحریری ہوناہی ضروری نہیں ہے ؛ البتہ تحریر لکھ دینا بہتر ہے جیسا کہ اوپر گزرا ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند