pakistan

سوال # 166463

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم ایک سال سے B4u یعنی (Business for You) نام سے کمپنی چلا رہے جس میں ہم نے آن لائین ویب سائیٹ ترتیب دی ہے ۔ اس ویب سائیٹ کے ذریعہ ہم لوگوں سے پیسہ لیتے ہیں اپنے کاروبار میں انویسٹ کرنے کیلیے ۔ کمپنی اپنے کاروبار پر ہر ماہ حاصل کردہ منافع پر 60٪ انویسٹ کرنے والے لوگوں میں تقسیم کر دیتی ہے ۔ کم انویسٹ والے کو اور زیادہ انویسٹ والے کو فیصد برابر ہی ملتا ہے ۔ باقی 40٪ کمپنی اپنے اخراجات اور منافع کے طور پر رکھ لیتی ہے اور منافع کا 60٪ لوگوں کو سمجھانے کیلیے کہ ان کو اوسط منافع ان کی رقم کا 7% سے 20٪ بتاتے ہیں تاکہ ان کو سمجھ آجائے ۔ چھ ماہ کے بعد میمبر اپنی انویسٹ آدھی مقدار میں واپس لے سکتا ہے بغیر کسی کٹوتی کے اور بارہ ماہ بعد پوری انویسٹ چاہے واپس نکلوا لے اور چاہے تو مزید چلنے دے ۔ لوگوں کی انویسمنٹ مختلف کاروبار میں لگاتے ہیں جیسے پراپرٹی کا کاروبار کیلیے ، ریسٹورنٹ، مختلف پروڈکٹ کی ٹریڈنگ اور ٹیکسی سروسز۔ ہماری کمپنی پاکستان میں FBR سے SECP سے اور Chamber of Commerce Karachi سے رجسٹرڈ ہے ۔ بلکہ ملیشیا میں بھی رجسٹرڈ ہے ۔ پاکستان سمیت چار ممالک میں ہماری کمپنی کے بینک اکاؤنٹ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم شرعی اعتبار سے جائز طریقہ سے منافعہ کمپنی اور میمبرز کے درمیان تقسیم کر رہے یا نہیں؟ جائز ہے تو بھی بتائیں اور اگر کوئی شرعی طور پر غلطی کر رہے تو اس کی وضاحت کرنے کے بعد اس کی جگہ کوئی جائز صورت بتائیں تاکہ کمپنی بھی گناہگار نہ ہو اور انویسٹ کرنے والے ممبرز کو بھی جائز و حلال منافع ملے ۔

Published on: Dec 24, 2018

جواب # 166463

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:188-266/N=4/1440



آج کل مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی مختلف شکلیں وصورتیں رائج ہیں اور مختلف کمپنیاں لوگوں سے ان کا سرمایہ لے کر انھیں منافع دیتی ہیں، جن میں سے اکثر کا طریقہ کار ناجائز ہوتا ہے؛ کیوں کہ عام طور پر شرعی اصول وضوابط کی روشنی میں سرمایہ کاری کا نظام نہیں ہوتا۔ اور بعض مرتبہ اس طرح کی کمپنیوں کی طرف سے ظاہر کچھ کیا جاتا ہے اور اندرونی نظام کچھ اور ہوتا ہے؛ اس لیے محض سوال کی تفصیل کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے جواز یا عدم جواز کا حکم لکھنا خلاف احتیاط ہوتا ہے۔ نیز جو کمپنیاں شرعی اصول وضوابط کی روشنی میں سرمایہ کاری کا نظام چلانا چاہتی ہیں، وہ پہلے اپنا طے شدہ نظام ارباب افتا کی خدمت میں رکھیں، جب وہ شریعت کی روشنی میں اجازت دیدیں تو اس کو عملی شکل دیں، یہ طریقہ صحیح نہیں کہ پہلے اپنی مرضی سے نظام بناکر اسے عملی شکل دیدی جائے اور جب لوگوں کی طرف سے اعتراض کیا جائے تو مقامی دار الافتا اور ارباب افتا کو نظر انداز کرکے دوسری جگہوں سے فتاوی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے؛ کیوں کہ اس صورت میں لوگ عام طور پر چلتے نظام کو علی حالہ باقی رکھنے کے لیے سوال میں دیانت داری سے کام نہیں لیتے؛ اس لیے ہم بر بنائے احتیاط آپ کو بھی یہی مشورہ دیں گے کہ آپ اپنے سرمایہ کاری کے نظام کے بارے میں مقامی مستند ومعتبر دار الافتا وارباب افتا سے رجوع کریں، وہ آپ کی کمپنی کی پوری صورت حال جاننے اور سمجھنے کے بعد اور عواقب کو مد نظر رکھ کر جو حکم شرعی بتائیں، آپ اور آپ کے رفقاء اس پر عمل کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات