متفرقات - تاریخ و سوانح

Pakistan

سوال # 63779

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین تنازعہ کا سبب معلوم کرنا ہے ۔براہ کرم بتا دیں۔ عین نوازش ہو گی۔

Published on: Mar 7, 2016

جواب # 63779

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 305-305/Sd=5/1437

حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھی، دونوں ہی کے احترام اور عدالت کا قائل ہونا ضروری ہے، کسی پر طعن کرنا اور برائی کے ساتھ ذکر کرنا ہر گز جائز نہیں ہے، اس لیے کہ تمام صحابہ کرام کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ وہ سب اللہ کے نیک اور مقبول بندے تھے، اللہ تعالی نے قرآن میں اُن کے تعلق سے اپنی رضا کا اعلان فرمادیا، اُن کی زندگی بعد میں آنے والوں کے لیے نمونہ ہے، اُن کے درمیان جو کچھ اختلافات پیش آئے، اس میں اللہ کی بہت سی مصلحتیں اور حکمتیں پوشیدہ تھیں، ہم سے روز قیامت اختلافات کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا، اُن کے اختلافات کی بحث میں نہ پڑنے ہی میں عافیت ہے، آپ ان مسائل میں نہ پڑیں ، اپنے اعمال کی فکر کریں۔ قال ابن الصلاح: للصحابة بأسرہم خصیصة، وہي أنہ لا یسأل عن عدالة أحد منہم؛ بل ذلک أمر مفروغ منہ، لکونہم علی الاطلاق معدلین بنصوص الکتاب، والسنة، واجماع من یعتد بہ في الاجماع من الأمة۔ ( علوم الحدیث ) وقال العراقي: ان جمیع الأمة مجمعة علی تعدیل من لم یلابس الفتن منہم، وأما من لابس الفتن منہم، وذلک حین مقتل ثمان رضي اللّٰہ عنہ، فأجمع من یعتد بہ أیضاً في الاجماع علی تعدیلہم احساناً للظن بہم، وحملاً لہم في ذلک علی الاجتہاد ( شرح ألفیة العراقي المسماة بالتبصرة والتذکرة للعراقي: ) وقال الامام الغزالي: والذي علیہ سلف الأمة و جماہیر الخلق أن عدالتہم معلومة بتعدیل اللّٰہ عز وجل ایاہم و ثنائہ علیہم في کتابہ، فہو معتقدنا فیہم۔۔۔۔۔(المستصفی ) وقال الامام أحمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ لما سئل عن رجل تنقص معاویة و عمرو بن العاص، أیقال لہ رافضي؟ فقال: انہ لم یجتريء علیہما الا ولہ خبیئة سوء، ما انتقص أحد أحداً من الصحابة الا ولہ داخلة سوء۔ وفي روایة أخری: قال: اذا رأیت رجلاً یذکر أحداً من الصحابة بسوء، فاتہمہ علی الاسلام۔ ( البدایة والنہایة ) ویسئل الامام النسائي عن معاویة بن أبي سفیان رضي اللّٰہ عنہما فیقول: انما الاسلام کداار لہا باب، فباب الاسلام الصحابة، فمن آذی الصحابة، انما أراد الاسلام کمن نقر الباب أي: نقبہ انما یرید دخول الدار، قال: فمن أراد معاویة، فانما أراد الصحابة ( تہذیب الکمال ) وقال التفتازاني:ویکف عن ذکر الصحابة الا بخیرلما ورد من الأحادیث الصحیحة والحسنة في مناقبہم ووجوب الکف عن الطعن فیہم کقولہ علیہ الصلاة والسلام: لا تسبوا أصحابي، فلو أن أحدکم أنفق مثل أحد ذہباً، ما بلغ مد أحدہم، ولا نصیفہ، وکقولہ علیہ الصلاة والسلام: أکرموا أصحابي؛ فانہم خیارکم، وکقولہ علیہ الصلاة والسلام: اللّٰہ اللّٰہ في أصحابي، لا تتخذواہم غرضاً من بعدي، فمن أحبہم، فبحبي أحبہم، ومن أبغضہم، فببغضيأبغضہم، ومن آذاہم، فقد آذاني، ومن آذاني، فقد آذی اللّٰہ، ومن آذی اللّٰہ، فیوشک أن یأخذہ۔۔۔۔۔ وقال:وما وقع بینہم أي: بین الصحابة من المحاربات والمنازعات۔۔۔۔فلہ محامل أي: مواضع حمل وتاویلات، والمجمل أنہم کانوا یطلبون الحق؛ ولکن یصیب بعضہم في الاجتہاد، ویخطي بعضہم، والمخطي في الاجتہاد غیر ماخوذ؛ بل ماجور، وہکذا جرت عادة السلف الصالحین بحمل أفعال الصحابة علی مقاصد صحیحة۔۔۔۔وبالجملة لم ینقل عن السلف للمجتہدین والعلماء الصالحین جواز اللعن علی معاویة وأحزابہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔قال صاحب النبراس: قد صرح علماء الحدیث بأن معاویة رضي اللّٰہ عنہ من کبار الصحابة، ونجبائہم و مجتھدیہم، ولو سلم أنہ من صغارہم، فلا شک فيأنہ دخل في عموم الأحادیث الصحیحة الواردة في تشریف الصحابة رضي اللأٰہ عنہم؛ بل قد ورد فیہ بخصوصہ أحادیث کقولہ علیہ الصلاة والسلام: اللّٰہم اجعلہ ہادیا و مہدیاً۔۔رواہ الترمذي، وقولہ علیہ الصلاة والسلام: اللّٰہم علم معاویة الحساب والکتاب، وقہ العذاب رواہ أحمد، وما قیل من أنہ لم یثبت في فضلہ حدیث، فمحل نظر، وکان السلف یغضبون من سبہ و طعنہ۔ وقیل لابن عباس: ان معاویة صلی الوتر رکعة واحدة، قال: وعہ؛ فانہ فقیہ صحب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کما في الصحیح البخاري۔ وسبہ رجل عند خلیفة الراشد عمر بن عبد العزیز، فجلدہ۔ وقیل للامام الجلیل عبد اللّٰہ بن المبارک: أمعاویة أفضل أم عمر بن عبد العزیز؟ قال: غبار فرس معاویة اذا غزا مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أفضل من عمر۔ ( شرح العقائد مع النبراس، ص: ۵۴۶۔۔۔۵۵۱، ط: مکتبة رشیدیة، کوئٹہ )

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات