Miscellaneous >> Others

Question # : 57683

India

میں نے ایک بیان میں سنا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان بیٹھے تھے، ایک شخص آیا ، اس نے دعا پڑھی اور اللہ کی تعریف کی اس طریقے سے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے ، اور اس شخص کو تحفہ وغیرہ دیا ۔ جو حضرت یہ بیان کررہے تھے ، انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ترمذی میں موجود ہے۔
آپ سے موٴدبانہ درخواست ہے کہ وہ دعا عربی مع اردو ترجمہ ارسال کریں۔

Answer : 57683

Published on: Mar 28, 2015

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 678-675/L=6/1436-U

مذکورہ دعا ترمذی شریف میں تو نہیں ملی البتہ طبرانی میں یہ دعا بروایت انس مذکور ہے جو مع ترجمہ کے درج ذیل ہے، عن أنس، أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مر بأعرابي وہو یدعو في صلاتہ، وہو یقول: یا من لا تراہ العیون، ولا تخالطہ الظنون، ولا یصفہ الواصفون، ولا تغیرہ الحوادث، ولا یخشی الدوائر، یعلم مثاقیل الجبال، ومکاییل البحار، وعدد قطر الأمطار، وعدد ورق الأشجار، وعدد ما أظلم علیہ اللیل، وأشرق علیہ النہار، لا تواري منہ سماء سماء، ولا أرض أرضا، ولا بحر ما في قعرہ، ولا جبل ما في وعرہ، اجعل خیر عمري آخرہ، وخیر عملي خواتمہ، وخیر أیامی یوم ألقاک فیہ․ ترجمہ: اے وہ ذات جس کو آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں اور کسی کا خیال وگمان اس تک پہنچ نہیں سکتا اور نہ ہی تعریف بیان کرنے والے اس کی تعریف بیان کرسکتے ہیں اور نہ زمانے کی مصیبتیں اس پر اثر انداز ہوسکتی ہیں اور نہ اسے زمانے کی آفتوں کا کوئی خوف ہے (اے وہ ذات) و پہاڑوں کے وزن، دریاوٴں کے پیمانے بارشوں کے قطرے کی تعداد اور درختوں کے پتوں کی تعداد کو جانتی ہے اور (اے وہ ذات) جو ان تمام چیزوں کو جانتی ہے جن پر رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے اور جن پردن روشنی ڈالتا ہے نہ اس سے ایک آسمان دوسرے آسمان کو چھپاسکتا ہے اور نہ ایک زمین دوسری زمین کو اور نہ سمندر اس چیز کو چھپاسکتے ہیں جو ان کی تہہ میں ہیں اور نہ کوئی پہاڑ ان چیزوں کو چھپا سکتا ہے جو اس کی سخت چٹانوں میں ہے، آپ میری عمر کے آخری حصہ کو سب سے بہترین حصہ بنادیجیے اور میرے آخری عمل کو سب سے بہترین عمل بنادیجئے اور میرا بہترین دن وہ بنادیجیے جس دن میری آپ سے ملاقات ہو یعنی موت کا دن۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیہات کے رہنے والے ایک شخص کے پاس سے گذرے جو نماز میں یہ دعا مانگ رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو مقرر فرمایا کہ جب یہ شخص نماز سے فارغ ہوجائیں تو انھیں میرے پاس لے آنا چنانچہ وہ نماز کے بعد رسول ا للہ صلی للہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کان سے کچھ سونا ہدیہ میں آیا تھا، آپ نے انہیں وہ سونا ہدیہ میں دیا، پھر ان سے پوچھا تم کس قبیلہ کے ہو؟ انھوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! قبیلہ بنو عامر سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ سونا میں نے تمہیں کیوں ہدیہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا یا رسول اللہ اس وجہ سے کہ ہماری آپ کی رشتہ داری ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رشتہ داری کا بھی حق ہوتا ہے لیکن میں نے تمھیں یہ سونا اس وجہ سے ہدیہ کیا کہ تم نے بہت اچھے ا نداز میں اللہ کی تعریف کی۔


Allah knows Best!


Darul Ifta,
Darul Uloom Deoband

Related Question