• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 7108

    عنوان:

    میں بطور لائف انشورنس ایڈوائزرکے کام کرتا ہوں۔میں لائف انشورنس، ایف ڈی آر ڈی، اندرا وکاس پترا کے بارے میں فتوی لینا چاہتا ہوں۔ در اصل میرے کچھ موٴکل مسلمان ہیں جن کا کہنا ہے کہ لائف انشورنس ، ایف ڈی آر ڈی وغیرہ حرام ہیں ،کیوں کہ ہمیں پالیسی کے پورا ہونے کے بعدبیاج ملتا ہے۔ میں نے ایک عالم سے سنا ہے جنھوں نے کہا کہ تمام مسلک (اہل سنت والجماعت، دارالعلوم دیوبند اورجماعت اسلامی) نے اس مسئلہ کو جائز قرار دیا ہے کہ جب ایک غیر مسلم بینک یا کمپنیکسیکواس کی سرمایہ کاری پر منافع دیتی ہے غیر مسلم ملک میں تو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق جائز ہے ۔ اور اس حقیقت کو جب میں نے اپنے موٴکل سے بتایا تواس کے بعد انھوں نے لائف انشورنس ، ایف ڈی آر ڈی، اندرا وکاس پترا وغیرہ کی موافقت میں فتوی پوچھا ہے۔ برائے کرم آپ مجھے اس حقیقت کے بارے میں ایک فتوی دے دیں۔ اس کے بارے میں میرے کچھ سوالات ہیں جو کہدرج ذیل ہیں: (۱) کیا کوئی مسلمان مستقبل کے منافع کے لیے لائف انشورنس پالیسی یا ایف ڈی آر ڈی، اندرا وکاس پتراوغیرہ خرید سکتا ہے؟ (۲) اگر کوئی انکم ٹیکس بچانے کے لیے کوئی پالیسی خریدتا ہے اور اپنے پیسہ کو حکومت کی نظر میں حلالپیسوں میں تبدیل کرلیتا ہے تو کیایہ جائز ہے؟ (۳) کیا سرمایہ کاری پر جو منافع پالیسی کے پورا ہونے کے بعد حاصل کیا گیا ہے وہ جائز ہے؟

    سوال:

    میں بطور لائف انشورنس ایڈوائزرکے کام کرتا ہوں۔میں لائف انشورنس، ایف ڈی آر ڈی، اندرا وکاس پترا کے بارے میں فتوی لینا چاہتا ہوں۔ در اصل میرے کچھ موٴکل مسلمان ہیں جن کا کہنا ہے کہ لائف انشورنس ، ایف ڈی آر ڈی وغیرہ حرام ہیں ،کیوں کہ ہمیں پالیسی کے پورا ہونے کے بعدبیاج ملتا ہے۔ میں نے ایک عالم سے سنا ہے جنھوں نے کہا کہ تمام مسلک (اہل سنت والجماعت، دارالعلوم دیوبند اورجماعت اسلامی) نے اس مسئلہ کو جائز قرار دیا ہے کہ جب ایک غیر مسلم بینک یا کمپنیکسیکواس کی سرمایہ کاری پر منافع دیتی ہے غیر مسلم ملک میں تو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق جائز ہے ۔ اور اس حقیقت کو جب میں نے اپنے موٴکل سے بتایا تواس کے بعد انھوں نے لائف انشورنس ، ایف ڈی آر ڈی، اندرا وکاس پترا وغیرہ کی موافقت میں فتوی پوچھا ہے۔ برائے کرم آپ مجھے اس حقیقت کے بارے میں ایک فتوی دے دیں۔ اس کے بارے میں میرے کچھ سوالات ہیں جو کہدرج ذیل ہیں: (۱) کیا کوئی مسلمان مستقبل کے منافع کے لیے لائف انشورنس پالیسی یا ایف ڈی آر ڈی، اندرا وکاس پتراوغیرہ خرید سکتا ہے؟ (۲) اگر کوئی انکم ٹیکس بچانے کے لیے کوئی پالیسی خریدتا ہے اور اپنے پیسہ کو حکومت کی نظر میں حلالپیسوں میں تبدیل کرلیتا ہے تو کیایہ جائز ہے؟ (۳) کیا سرمایہ کاری پر جو منافع پالیسی کے پورا ہونے کے بعد حاصل کیا گیا ہے وہ جائز ہے؟

    جواب نمبر: 7108

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1584=1363/ ب

     

    (۱) لائف انشورنس کی پالیسی سود اور قمار ہردو سے مرکب ہے، اور دونوں کی حرمت نص قطعی یعنی قرآن پاک سے ثابت ہے وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ الخ اس لیے یہ قطعی حرام ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے اس سے پہلے بھی ناجائز لکھا ہے اور اب بھی یہاں سے یہی ناجائز ہونے کا فتویٰ دیا جاتا ہے۔

    (۲) اگر کوئی اپنی گاڑھی کمائی کو انکم ٹیکس میں جانے سے بچانے کے لیے لائف انشورنس کرائے تو بعض علماء نے اس کی گنجائش دی ہے۔

    (۳) جائز نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند