• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 18443

    عنوان:

    شریعت میں انکم ٹیکس ہے یا نہیں اگر ہے تو کیا حکم ہے، اگر نہیں ہے تو کیا حکم ہے؟ (۲)لوگ انکم ٹیکس بچانے کے تمام طریقے اپناتے ہیں جیسے انکم کم دکھانا یا خرچے زیادہ دکھانا اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ (۳)کچھ چیزیں شریعت میں جائز ہیں مگر حکومت میں پابندی ہے جیسے گائے کا گوشت کھانا اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ (۴)میں اکاؤنٹ بنانے کا کام کرنا چاہتاہوں مثلاً ایک ایسا آفس کھولنا چاہتا ہوں جس میں لوگ اپنا اکاؤنٹ مجھ سے بنوائیں آکر، لوگ کاروبار کرتے ہیں بینک سے لون لیتے ہیں بینک سے ان کا سود کا لین دین ہوتا ہے جس وجہ سے مجھے بھی ان کا اکاؤنٹ بنانے میں سود کی لکھا پڑھی کرنی ہوگی شریعت میں اس متعلق کیا حکم ہے؟ چونکہ میں ہندوستان میں رہتا ہوں غیر مسلم حکومت میں رہتا ہوں حکومت کو دیکھتے ہوئے ہندوستا ن میں اس کے متعلق شریعت کیا کہتی ہے؟ کیا میں یہ کام کرسکتا ہوں؟

    سوال:

    شریعت میں انکم ٹیکس ہے یا نہیں اگر ہے تو کیا حکم ہے، اگر نہیں ہے تو کیا حکم ہے؟ (۲)لوگ انکم ٹیکس بچانے کے تمام طریقے اپناتے ہیں جیسے انکم کم دکھانا یا خرچے زیادہ دکھانا اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ (۳)کچھ چیزیں شریعت میں جائز ہیں مگر حکومت میں پابندی ہے جیسے گائے کا گوشت کھانا اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ (۴)میں اکاؤنٹ بنانے کا کام کرنا چاہتاہوں مثلاً ایک ایسا آفس کھولنا چاہتا ہوں جس میں لوگ اپنا اکاؤنٹ مجھ سے بنوائیں آکر، لوگ کاروبار کرتے ہیں بینک سے لون لیتے ہیں بینک سے ان کا سود کا لین دین ہوتا ہے جس وجہ سے مجھے بھی ان کا اکاؤنٹ بنانے میں سود کی لکھا پڑھی کرنی ہوگی شریعت میں اس متعلق کیا حکم ہے؟ چونکہ میں ہندوستان میں رہتا ہوں غیر مسلم حکومت میں رہتا ہوں حکومت کو دیکھتے ہوئے ہندوستا ن میں اس کے متعلق شریعت کیا کہتی ہے؟ کیا میں یہ کام کرسکتا ہوں؟

    جواب نمبر: 18443

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 233=213-2/1431

     

    (۱) شریعت میں انکم ٹیکس کا حکم لاگو نہیں کیا گیا، بلکہ یہ موجودہ حکومتوں کے نظام میں سے ہے۔

    (۲) (۳) اس طرح کی خلاف ورزی کرکے جان مال عزت وآبرو کوخطرہ میں ڈالنے کی اجازت نہیں۔

    (۴) سودی دستاویز کا لکھنا جائز نہیں، ہندوستان میں بھی بحالت موجودہ یہی حکم ہے، البتہ اصالةً اکاوٴنٹ بنانا فی نفسہ درست وجائز ہے، اگر پہلے سے کچھ لوگ اس کام کو کررہے ہیں تو چھوڑنے سے قبل بے غبار جائز کاروبار تلاش کرلیں، پھر چھوڑدیں اور جس قدر سود لکھنے کی نوبت آئے اس پر توبہ استغفار کا اہتمام بھی کرتے رہیں اور ابھی چونکہ آپ نے کام شروع نہیں کیا بلکہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے حق میں اسلم صورت یہی ہے کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا کاروبار جائز وحلال تلاش کرنے میں سعی کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند