• Prayers & Duties >> Salah (Prayer)

    Question ID: 400121Country: India

    Title:

    دوران سفر جہاں ٹھہرا ہے اگر وہاں ہرطرح كا سكون واطمینان ہو تو سنتیں پڑھنے كے بارے میں كیا حكم ہے؟

    Question: میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ میں سفر میں ہوں اور رہائش کا پورا انتظام ہو مطلب کہ مان لیجئے کسی کے گھر گئے ہوئے ہیں، رشتہ داروں میں، اور پندرہ دن سے کم کا ارادہ ہے اور رہنے کا پورا انتظام ہے وہاں تو سنت پڑھنے کا کیا مسئلہ ہے اور سنت موٴکدہ پڑھنی ہے چاہئے یا کیا؟

    Answer ID: 400121Posted on: 01-Feb-2021

    Fatwa:478-393/L=6/1442

     دوران سفر اگر قرار اور اطمینان کی حالت ہو تو سننِ مؤکدہ کا ادا کرلینا بہتر ہے، اور اس صورت میں سنن مؤکدہ کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے گو سفر کی وجہ سے سنن مؤکدہ کی ادائیگی کا تاکیدی حکم نہیں ہے ۔

    ویأتی المسافر بالسنن إن کان فی حال أمن وقرار وإلا بأن کان فی خوف وفرار لایأتی بہا ہو المختار، لأنہ ترک لعذر، تجنیس، قیل إلا سنة الفجر ․․․․ قولہ ہو المختار، وقیل الأفضل الترک ترخیصاً وقیل الفعل تقریباً، وقال الہندووانی: الفعل حال النزول والترک حال السیر ․․․․․ قال فی شرح المنیة : والأعدل ما قالہ الہندواوانی اھ (در مختار مع الشامی:2/613، ط: زکریا) إن الرواتب لا تبقی مؤکدة فی السفر کالحضر، فینبغی مراعاة حال الرفقة فی إتیانہا، فإن أثقل علیہم ترکہا أو أخرہا حتی یأتی بہا علی ظہر الراحلة. (إعلاء السنن ۲۹۰/۷کراچی)

    Darul Ifta,

    Darul Uloom Deoband, India