• Transactions & Dealings >> Interest & Insurance

    Question ID: 400209Country: India

    Title:

    موجودہ حالات میں انشورنس کرانے کا حکم

    Question: موجودہ حالات میں جب مسلمان کو ٹارگیٹ کرکے ان کے جان و مال کو نقصان پہنچایا جارہا ہو (پولیس و حکومت کی رہبری میں) تو کیا ان حالات میں؛ (۱) جان و مال کے انشورنس لینے کی گنجائش ہے؟ (۲) اگر ہے تو کیا مسلم ایجینٹ سے لینا جائز ہے؟ کیوں کہ انشورنس کی رقم کمپنی سے حاصل کرنے کا طریقہ کار آسان نہیں ہے ، مسلم ایجینٹ سے محنت کی زیاہد امید کی جاسکتی ہے۔ رہبری کی امید ہے کہ ساتھ۔

    Answer ID: 400209Posted on: 27-Feb-2021

    Fatwa:577-149T/sn=7/1442

     انشورنس سود وقمار پر مشتمل ہوتا ہے ، اور سود وقمار ان بڑے محرّمات اور گناہوں میں سے ہے جن کا ذکر قرآن کریم میں صراحتاً آیا ہے ؛ اس لئے بہت شدید ضرورت کے بغیر انشورنس پالیسی لینا شرعا جائز نہیں ہے ؛ لہذا موجودہ حالات میں بھی انشورنس کرانے سے احتراز چاہئے ، اپنے بچاؤ کے لئے حالات کے اعتبار سے مباح تدابیر اختیار کرنی چاہئیں ۔

    قال اللہ تعالی: یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ․ (المائدة:90) یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَذَرُوا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّہِ وَرَسُولِہِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُئُوسُ أَمْوَالِکُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (279)․ (البقرة: 275 - 279) لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا، ومؤکلہ، وکاتبہ، وشاہدیہ، وقال:ہم سواء․ (صحیح مسلم 3/ 1219)

    Darul Ifta,

    Darul Uloom Deoband, India