Social Matters >> Rights & Etiquettes

Question # : 57558

India

میں غیر شادی شدہ ہوں، میری ایک غیر مسلم گرل فرینڈ تھی، بہت بار ہم نے جسمانی تعلق قائم کیاہے۔ میری والدہ میرے اس معاملے سے خوش نہیں تھیں، (والدہ کو یہ معلوم نہیں کہ ہمارے درمیان جسمانی تعلق ہوا ہے)اور مجھے کہا کہ اپنی گرل فرینڈ سے الگ ہوجاؤ،میں نے والدہ کی بات مان لی، اس سے رشتہ توڑ دیا یہ سوچ کر کہ اللہ سبحانہ و تعالی کے بعد سب سے پہلے والدہ کا حق ہے اور والدہ کو ناراض کرنا اللہ کو ناراض کرنا ہے۔
(۱) کیا میرا عمل درست ہے؟
(۲) میری گرل فرینڈ نے بہت مرتبہ میری مالی مدد کی تھی پیسوں کی واپسی کی امید کے بغیر تو کیا وہ پیسے جو میں نے خرچ کئے ہیں ، مجھ پر قرض ہیں؟براہ کرم، جواب دیں۔

Answer : 57558

Published on: Jan 27, 2015

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 325-261/D=4/1436-U

غیرمسلم گرل فرینڈ سے تعلقات قائم کرنا حرام تھا اور جسمانی تعلق رکھنا اور بھی سنگین جرم تھا والدہ کے واسطہ آپ کو خوفِ خدا پیدا ہوا اور آپ نے رشتہ توڑدیا، بہت اچھا کیا، صدق دل سے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور نادم اور شرمندہ ہوں اللہ سے خوب معافی مانگیں حتی کہ آپ کو یقین ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ نے معارف کردیا ہوگا۔
(۲) جب اس نے قرض کے ارادہ سے نہیں دیا نہ ہی آپ نے قرض سمجھا تو اس کی واپسی آپ پر لازم نہیں ہے۔


Allah knows Best!


Darul Ifta,
Darul Uloom Deoband

Related Question