• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 7776

    عنوان:

    اگر کچھ پیسہ کسی زمین یا شیئر مارکیٹ میں ایک سال سے پہلے لگایا گیا ہو اواس پیسہ کا پچاس فیصد نقصان ہوگیا ہو تو زکوة دینے کا کیا طریقہ ہے؟ کیا زکوة کی رقم اپنے رشتہ داروں کودی جاسکتی ہے جو کہ اپنی بیماری کی وجہ سے بہت زیادہ محتاج ہیں، لیکن وہ لوگ سید ہیں؟

    سوال:

    اگر کچھ پیسہ کسی زمین یا شیئر مارکیٹ میں ایک سال سے پہلے لگایا گیا ہو اواس پیسہ کا پچاس فیصد نقصان ہوگیا ہو تو زکوة دینے کا کیا طریقہ ہے؟ کیا زکوة کی رقم اپنے رشتہ داروں کودی جاسکتی ہے جو کہ اپنی بیماری کی وجہ سے بہت زیادہ محتاج ہیں، لیکن وہ لوگ سید ہیں؟

    جواب نمبر: 7776

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1821=1545/ب

     

    سال پورا ہونے کے وقت جو نقصان ہوگیا ہے، اس کو منہا کرنے کے بعد بقیہ مال کی زکاة نکالی جائے گی۔ جی ہاں اپنے بھائی بہن، بھتیجے، بھتیجی وغیرہ کو اگر وہ صاحب نصاب نہیں ہیں، تو انھیں زکاة دے سکتے ہیں۔ ان کو دینے میں دوہرا اجر ملے گا، لیکن اگر کوئی سید ہے تو اس کو زکاة دینا بالکل جائز نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند