• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 69968

    عنوان: جیب خرچ بچ کر نصاب کو پہنچ جائے تو زکات ہے؟

    سوال: میں اپنے والدین کے ساتھ رہتاہوں اور کام کرتاہوں، وہ مجھے کچھ جیب خرچ جیسے چھ ہزاروپئے ماہانہ دیتے ہیں جس میں سے میں اکثر روپئے کچھ گھریلو سامان خریدنے کے لیے بچا کررکھتاہوں تو جب یہ بچت زکاة کے نصاب سے زیادہ ہوجائے تو کیا میں زکاة کا مستحق ہو سکتاہوں؟نیز بتائیں کہ میرے نصاب کیا ہے؟ براہ کرم، اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 69968

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1234-1241/M37=01/1438

    جو روپئے آپ بچا کر رکھتے ہیں اگر وہ نصاب کو پہنچ جائے یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے اور وہ حاجت اصلیہ اور قرض سے زائد ہو تو آپ مستحق زکوة کے بجائے مُعطی زکوة بن جائیں گے یعنی سال پورا ہونے پر خود ان روپیوں کی زکوة نکالنا آپ پر واجب ہوجائے گا اور آپ کے لیے زکوة لینا جائز نہ ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند