• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 69857

    عنوان: زکاة کی رقم سے کمیشن لینے والے كو چندہ دینا؟

    سوال: کیا مدرسہ میں زکاة دینا جائز ہے جب کہ ہم جانتے ہیں کہ جو شخص ہم سے پیسے لے رہاہے وہ اس زکاة کی رقم سے کمیشن لے گا؟کیا شرائط ہیں جن کی بنیاد پر ہم مدرسہ کو زکاة دے سکتے ہیں تاکہ زکاة ادا ہوجائے؟مدرسہ والے بچوں کو زکاة کی رقم دیتے ہیں اور پھر ان کو واپس کرنے کے لیے کہتے ہیں توکیا یہ جائز ہے؟

    جواب نمبر: 69857

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1368-1454/H=01/1438

    (۱) اگر اس نے آپ سے کہا کہ میں آپ کی دی ہوئی زکوٰة کی رقم میں سے کمیشن لوں گا یا آپ کو تحقیقِ شرعی سے زکوٰة کی رقم میں سے کمیشن لینا معلوم ہے تو کمیشن لی گئی رقم کے بقدر آپ کی زکوٰة اداء نہ ہوگی۔
    (۲) جس مدرسہ میں مصارفِ زکوٰة طلبہ ہیں اور دل مطمئن ہوکہ اس مدرسہ میں ہماری زکوٰة مستحقینِ زکوٰة طلبہ پر خرچ کی جاتی ہے تو اس مدرسہ میں آپ خود یا اپنے کسی معتمد علیہ شخص کے ذریعہ اپنی زکوٰة پہنچا دیا کریں۔
    (۳) مدرسہ والے بچوں کو زکوٰة کی رقم دے کر واپس کرنے میں کیا صورت اختیار کرتے ہیں اس کی پوری تفصیل خود ان کے قلم سے لکھوا کر بھیجئے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند