• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 69459

    عنوان: غیر اسلامی ریاست میں زکوة کی ادائیگی سے متعلق

    سوال: برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں کہ زکوة رسول اللہ اور صحابہ کرام کے ادوار میں حکومت کو دی جاتی تھی جسے حکومتی انتظام و انصرام پر خرچ کیا جاتا تھا۔ ان ادوار میں زکوة کسی فرد یا کسی اور ادارے کو نہیں دیا جاتا تھا۔ یہ فیصلہ علما نے کب کیا کہ زکوة کی رقم دیگر اداروں کی دینا جائز ہے ۔ دوسری بات یہ کہ کیا یہ اسلامی ریاست میں دور موجودہ کے ٹیکس کا متبادل نہیں ہے ؟ اگر ہاں تو ایک مسلمان دو ٹیکس کیوں دے ؟ مجھے ایک صاحب نے کہا ہے کہ کے کسی فتوے کے مطابق دارالحرب میں زکوة کی ادائیگی لازم نہیں ہے ۔ لیکن اگر ہم جیسے لوگ جو ہندوستان جیسے ملک کو دارالحرب نہیں مانتے ہیں وہ زکوة کی رقم کس طرح ادا کریں۔

    جواب نمبر: 69459

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1012-178/D=12/1437 اموال کی دو قسمیں ہیں ظاہرہ اور باطنہ، اموال باطنہ کی زکوة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک صاحب زکوة خود ہی ادا کرتے ہوئے آرہے ہیں البتہ اموال ظاہر میں مثلاً مال تجارت ، جانوروں کی زکوة، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر وعمر او رعثمان رضی اللہ عنہم کے زمانہ تک حکومتی کارندوں کے ذریعہ وصول ہوتی تھی اور قرآن وحدیث میں ذکر کردہ اس کے مصارف میں خرچ ہوتی تھی، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب انہوں نے دیکھا کہ اموال کی کثرت ہوگئی ہے، جستجو اور تلاشی میں اصحاب زکوة کا کافی ضرر لاحق ہورہا ہے تو انہوں نے مصلحت سمجھا کہ اب حکومت کی طرف سے وصول نہ کرکے ارباب اموال کوہی اس کی ذمہ داری سپرد کی جائے چنانچہ صحابہ سے مشورہ کرکے انہوں نے ایسا ہی کیا، اسی وقت سے ارباب اموال خود اموال ظاہرہ کی زکوة بھی ادا کرتے آرہے ہیں آپ کے سوال نامے سے معلوم ہوتا ہے کہ اموال ظاہرہ کی طرح اموال باطنہ کی زکوة بھی حکومت وصول کرتی تھی اور حکومت زکوة کو اپنی ہر طرح کی ضروریا ت میں خرچ کرتی تھی یہ صحیح نہیں ہے نیز یہ کہنا کہ علماء نے اس طریقہ کو بدل دیا یہ بھی درست نہیں ہے بلکہ اجماع صحابہ سے یہ فیصلہ لیا گیا ہے قال فی البدائع: ․․․․․․ أن الأموال الباطنہ لایطالب الإمام بزکاتہا ․․․․․․ بخلاف الأموال الظاہرة لأن الإمام یطالب بزکاتہا ․․․․ وکان یأخذہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وأبوبکر وعمر إلی زمن عثمان رضی اللہ عنہم فلما کثرت الأموال في زمانہ وعلم أن فی تتبعہا زیادة ضرر بأربابہا رأی المصلحة في أن یفوّض الأداء إلی أربابہا باجماع الصحابة فصار أرباب الأموال کالوکلاء عن الإمام (۲/۸۵ ط: رکریا) اور چونکہ زکوة ارکان اسلام میں ایک رکن اور فریضہٴ خداوندی ہے اس لیے موجودہ دور کا ٹیکس اس کا متبادل نہیں ہوسکتا، رہی یہ بات کہ ہندوستان میں زکوة کس طرح ادا کریں تو آپ سال پورا ہونے پر نصاب کا حساب کرکے ڈھائی فیصد زکوة غرباء ومساکین کو دے دیں تو آپ کی زکوة ادا ہوجائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند