• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 68741

    عنوان: کن لوگوں کو زکوة دی جاسکتی ہے؟

    سوال: میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کن لوگوں کو زکوة دی جاسکتی ہے؟ میرے دوست امریکہ میں رہتے ہیں اور وہ لوگ رمضان کے ماہ میں غریب اور بے گھر لوگوں کو زکوة اور تحفہ دیتے ہیں جن میں غیر مسلم بھی ہوتے ہیں۔ کیا ہم غیر مسلم کو زکوة دے سکتے ہیں؟ اگر ہاں، توالحمد للہ۔ او راگر نہیں دے سکتے تو براہ کرم حدیث سے جواب دیں نہ کہ کسی مولوی اور مفتی کی کتاب سے۔ براہ کرم جواب صرف قرآن و حدیث کے حوالہ سے دیں۔

    جواب نمبر: 68741

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 829-836/Sd=10/14 غیر مسلم کو زکات دینا صحیح نہیں ہے، اس سے زکات اداء نہیں ہوتی، زکات مسلمان غریب ہی کو دینی چاہیے۔ نقل ابن المنذر الاجماع علی ذلک لحدیث : ان اللّٰہ افترض علیہم صدقة توٴخذ من أغنیائہم، وترد علی فقرائہم۔ (الموسوعة الفقہیة، مادة : زکاة، القسم الخامس : مصارف الزکاة) عن إبراہیم قال: لا تعط المشرکین شیئًا من الزکاة۔ (المصنف لابن أبي شیبة / ما قالوا في الصدقة یعطي منہا أہل الذمة ۶/۵۱۳ رقم: ۱۰۴۱۲)عن الحسن قال: لا یعطي المشرکون من الزکاة ولا من شيء من الکفارات۔ (المصنف لابن أبي شیبة / ما قالوا في الصدقة یعطي منہا أہل الذمة ۶/۵۱۳ رقم: ۱۰۴۱۴)لا یجوز دفع الزکاة إلی ذمي۔ (تببین الحقائق / باب المصرف ۱/۳۰۰)ولا یصح دفعہا لکافر (طحطاوي علی المراقي الفلاح ۳۹۳) وفي الہندیة : وأما أہل الذمة فلا یجوز صرف الزکاة إلیہم بالإتفاق۔ (الفتاویٰ الہندیة / الباب السابع في المصارف ۱/۱۸۸)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند