• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 68047

    عنوان: قومی مدرسہ وغیرہ میں صدقہ فطر دینے سے واجب ادا ہوگا کیا؟

    سوال: قومی مدرسہ وغیرہ میں صدقہ فطر دینے سے واجب ادا ہوگا کیا؟ جب کہ فطرہ شوال سے پہلے مسکین کے ہاتھ میں پہنچ جانا چاہیے اور مدرسہ میں دینے سے مسکین کے ہاتھ فوراً نہیں پہنچتا۔ براہ کرم تفصیل کے ساتھ بیان کیجئے ۔

    جواب نمبر: 68047

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1298-1294/N=12/1437

    صدقہ فطر شوال سے پہلے مسکین کے ہاتھ میں پہنچ جانا لازم وضروری نہیں، صرف جائز ہے اور افضل یہ ہے کہ صدقہ فطر عید الفطر (یکم شوال) کے دن صبح صادق کے بعد عیدگاہ جانے سے پہلے مسکین کو دیدیا جائے ، اور اگر کوئی شخص عید الفطر کے بعد دوسرے ، تیسرے دن مسکین کو دے تو اس میں بھی کچھ گناہ نہیں؛ بلکہ اگر کسی دوسری جگہ کے مساکین دوسروں سے زیادہ مستحق ہوں یا انھیں دینے میں صلہ رحمی بھی پائی جاتی ہو یا علم دین کی نشر واشاعت میں تعاون ہوتا ہو اور عید الفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے ان تک صدقہ فطر پہنچانا مشکل ہو توعید الفطر کے بعد بھی ان مساکین کو صدقہ فطر دینے میں شرعاً کچھ حرج نہ ہوگا؛ بلکہ صلہ رحمی وغیرہ کی وجہ سے زیادتی ثواب کا باعث ہوگا۔پس جن دینی مدارس میں زکوة، صدقہ فطر اور دیگر صدقات واجبہ کے مصارف پائے جاتے ہیں، یعنی: باہر کے غریب ومستحق زکوة طلبہ قیام وطعام کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ذمہ داران مدارس زکوة اور دیگر صدقات واجبہ کی رقومات یا اشیا مصارف زکوة میں صحیح طور پر خرچ کرتے ہیں، غیر تملیکی مصارف میں زکوة اور دیگر صدقات واجبہ کی رقومات یا اشیا صرف نہیں کرتے تو ایسے مدارس میں بلا شبہ صدقہ فطر دے سکتے ہیں، واجب کی ادائیگی ہوجائے گی؛ بلکہ علم دین کی نشر واشاعت میں سبب وذریعہ کے درجے میں تعاون کی وجہ سے آدمی مزید ثواب کا حق دار ہوگا۔ تجب - صدقة الفطر- …موسعاً فی العمر عند أصحابنا وھو الصحیح، بحر عن البدائع معللا بأن الأمر بأدائھا مطلق کالزکاة الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب صدقة الفطر، ۲: ۳۱۰، ۳۱۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ:”وھو الصحیح“:ھو ما علیہ المتون بقولھم: وصح لو قدم أو أخر۔ قولہ:”مطلق“:أي: عن الوقت فتجب في مطلق الوقت …غیر أن المستحب قبل الخروج إلی المصلی لقولہ علیہ الصلاة والسلام: ”أغنوھم عن المسألة في ھذا الیوم“، بدائع (رد المحتار)،قال اللہ تعالی: إنما الصدقت للفقراء والمساکین الآیة(سورہ توبہ آیت:۶۰)، وقال الحصکفي فی الدر( مع الرد،کتاب الزکاة، باب المصرف۳: ۲۹۱ ط مکتبة زکریا دیوبند):یصرف المزکي إلی کلھم أو إلی بعضھم،…… ویشترط أن یکون الصرف تملیکا لا إباحة کما مر لا یصرف إلی بناء نحو مسجد اھ، وفی الرد:قولہ:”نحو مسجد“:کبناء القناطر والسقایات وإصلاح الطرقات وکري الأنھار والحج والجھاد وکل ما لا تملیک فیہ۔ زیلعي اھ ومثلہ في مجمع الأنھر (کتاب الزکوة ۱:۳۲۷،۳۲۸ ط:دار الکتب العلمیة، بیروت)،حیث قال:ولاتدفع الزکوة لبناء مسجد؛لأن التملیک شرط فیھا ولم یوجد، وکذا بناء القناطیر وإصلاح الطرقات وکري الأنھار والحج وکل ما لا تملیک فیہ اھ، وھو -مصرف الزکاة- مصرف أیضاً لصدقة الفطر والکفارة والنذر وغیر ذلک من الصدقات الواجبة کما فی القھستاني (رد المحتار، کتاب الزکاة، باب المصرف، ۳: ۲۸۳) ، قال طاوٴس: قال معاذ لأھل الیمن: ائتوني بعرض ثیاب خمیص أو لبیس فی الصدقة مکان الشعیرة والذرة أھون علیکم وخیر لأصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم بالمدینة (صحیح البخاري، کتاب الزکاة، باب العرض فی الزکاة ۱: ۱۹۴، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، دلالتہ علی جواز نقل الصدقة من بلد إلی بلد إذا کان فیہ مصلحة ظاھرة (إعلاء السنن، کتاب الزکاة، باب من یجوز دفع الصدقات ؛لیہ ومن لا یجوز ۹: ۹۷، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة کراتشي)،وانظر الدر المختار ورد المحتار (کتاب الزکاة، باب المصرف ۳:۳۰۴۔ ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند