• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 67759

    عنوان: میں نے کچھ شکار خریدے ہیں جیسے کہ الانڈس (افریقی نسل کا ہرن) یا جیمس بوک (جنوبی افریقہ کا ایک بڑا ہرن)۔ کیا ان پر زکوة ہے؟ اگر ہے تو کتنی؟

    سوال: (۱) میں نے کچھ شکار خریدے ہیں جیسے کہ الانڈس (افریقی نسل کا ہرن) یا جیمس بوک (جنوبی افریقہ کا ایک بڑا ہرن)۔ کیا ان پر زکوة ہے؟ اگر ہے تو کتنی؟ (۲) ہمارا بہت بڑا فارم ہے۔ کئی سالوں تک جانوروں کی افزائش نسل کے بعد یہ کہنا تو بہت مشکل ہے کہ ہمارے پاس کتنے جانور ہیں۔ جب تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو جانور دیگر جھنڈ کی طرف مائل ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ایک جھنڈ میں نہیں چلتے ہیں۔ جب ہم کسی جھنڈ کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک جگہ نہیں ٹھہرتے، وہ چلتے رہتے ہیں اور قبل اس کے کہ ہم ان کو دیکھیں وہ جھاڑیوں یا پہاڑوں کے پیچھے وادیوں میں غائب ہو جاتے ہیں۔ اس صورت حال میں ہم ان کو کیسے شمار کریں گے؟ (۳) صرف مکمل طور پر جوان جانوروں کا شکار کیا جاتا ہے۔ تو عمر اور بالکل چھوٹے بچوں کا شکار نہیں کیا جاتا ہے۔ اگر بڑے اور نو عمر جانور ایک ساتھ ہی ہوں تو کیا زکوة تمام جانوروں پر دی جائے گی؟ یا تو عمر اور بالکل چھوٹے بچوں کی بھی زکوة دی جائے گی؟ (۴) اگر ہاں، تو ہم نو عمر اور بالکل چھوٹے بچوں کی قیمت کا فیصلہ کیسے کریں گے؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔

    جواب نمبر: 67759

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 814-850/SN=9/1437 (۱،۲،۳،۴) ان جانوروں (شکاروں) کو خریدنے کا مقصد اگر انہیں فرخت کرکے نفع حاصل کرنا ہے یعنی تجارت مقصود ہے تو ان جانوروں (خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے) کی قیمت پر حسبِ شرائط زکوة واجب ہے، اگر گنتی مشکل ہوتو تخمینہ کرکے ان کی قیمت کا اندازہ لگایا جائے گا، قیمت کی تعیین میں اس طرح کے شکاروں کی خریدو فروخت کرنے والے تجربہ کار لوگوں کی رائے پر اعتماد کیا جائے گا، اگر تجارت مقصود نہیں ہے تو ان جانوروں پر زکوة واجب نہیں ہے؛ اس لئے کہ زکوة صرف اُن جانوروں میں واجب ہے جو درج ذیل جنسوں میں سے ہوں: اونٹ، گائے، بھینس، بکری، بھیڑ۔ جنگلی جانوروں مثلاً: ہرن (کسی بھی نوع کا ہو) نیل گائے، وغیرہ، اسی طرح گدھے او رگھوڑے پر زکوة واجب نہیں ہے الا یہ کہ تجارت کی نیت سے خریدے جائیں تو ان جانوروں کی تعداد پر نہیں؛ بلکہ قیمت پر مالِ تجارت کے ضابطے کے مطابق زکوة لازم ہوگی، اس کی کچھ تفصیل اوپر ذکر کردی گئی ہے۔ منہا أن یکون الجنس فیہا واحدا من الإبل والبقر والغنم (بدائع ۲/۳۰، فصل صفة نصاب السائمة)․․․․․ ولا فی بغال وحمیر سائمة إجماعا إلخ (درمختار ۴/۲۰۶، ط:زکریا) ․․․․․․․․․والحمر والبغال والفہد والکلب المعلم إنما تچب فیہا الزکاة إذا کانت للتجارة (التاتار خانیة، ۳/۱۴۷) ․


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند