• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 67583

    عنوان: ایسے قرضے پر زکاة کا کیا حکم ہے جس کی واپسی کی امید نہیں؟

    سوال: زید نے مختلف لوگوں کوقرضہ دیاہوا ہے ، وقت زیادہ گذرجانے کی وجہ سے واپسی کی امید ختم ہوئی، ایسے قرضے پرزکوة دینا فرض ہے ؟ ب ) زید اگرزکوة کی نیت کرلے انہیں پر جن لوگوں کوقرضہ دیاہے یاان کوبتادے کہ اگرتم زکوة کے مستحق نہیں ہوتوکسی ضرورت مند کومیری طرف سے زکوة دیدو توکیا زید کی طرف سے زکوة ادا ہوجا ئے گی؟ جب کہ زید کوشک ہے وہ لوگ کسی کونہیں دیِں گے ۔ ت ) میں صاحب نصاب ہوں لیکن میری تنخواہ اتنی کم ہے کے ہرماہ قرضہ لیناپڑتاہے بچوں کے اخراجات پورے نہیں ہوتے اس صورت میں کوئی دوسرا شخص میری مدد کرنے کے مد بتائے بغیرخا موشی سے مجھے یا بچوں کو کچھ نقد یا کھانے کاسامان دیتاہے جب کہ مجھے شک ہے یہ پیسہ فطرہ یا زکوة کا ہے ؟ تو کیا یہ رقم میں اپنے استعمال میں یا نابالغ بچوں پرخرچ کرسکتاہوں؟ ث ) میری طرف سے کسی بھی قسم کا کوئی سوال کئے بغیرکوئی شخص مجھے یا بچوں کوزکوة ۔ یا فطرہ ۔ کہکرنقد د یتاہے تو یہ نابالغ بچوں پراستعمال کرناجائزہوگا؟ زحمت فرماکر جواب جلد ازجلد عنایت فرمائیں ۔ عین نوازش ہو گی ۔

    جواب نمبر: 67583

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 908-887/Sd=11/1437 (۱) اگر قرض کے وصول ہونے کی امید نہ ہو، تو راجح قول کے مطابق جب تک قرض وصول نہ ہو جائے، زکات فرض نہیں ہے اور وصول ہونے کے بعد جس قدر قرض وصول ہوگا، آیندہ سال گذرنے پراسی قدر زکات فرض ہوگی، گزشتہ سالوں کی زکات فرض نہیں ہوگی؛ البتہ بعض فقہاء کے نزدیک اگر قرض پر ثبوت موجود ہو، تو اُس پر زکات فرض ہے، خواہ اُس کے وصول ہونے کی امید نہ ہو، اس لیے احتیاط کا تقاضہ یہ ہے ایسے قرض کے وصول ہونے کے بعد گزشتہ سالوں کی بھی زکات دیدی جائے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ایسے قرض کے سلسلے میں جس کے ملنے کی امید نہ ہو فرماتے ہیں: ”الجواب: اس میں اقوال مختلف ہیں اور ہر جانب تصحیح بھی کی گئی ہے، جس کی تفصیل رد المحتار، ج: ۲، ص: ۱۴، و ص: ۹۹، مطبوعہ مصر میں موجود ہے، بندے کے نزدیک ان اقوال میں سے قول مختار یہ ہے کہ جس قرض کے وصول ہونے کی امید ضعیف ہو یا بالکل نہ ہو، قبل وصول اُس پر زکات واجب نہ ہوگی اور وصول کے بعد جس قدر وصول ہوگا، بعد حولان حول آئندہ صرف اسی قدر پر زکات واجب ہوگی۔ ومتمسکی فیہ ما في رد المحتار بعد نقل عبارة النہر عن الخانیة قولہ قلت، وقدمنا أول الزکاة اختلاف التصحیح فیہ، ومال الرحمتي الی ہذا وقال: بل في زماننا یقر المدیون بالدین و بملائتہ ولا یقدر الدائن علی تخلیصہ منہ، فہو بمنزلة العدم: ج: ۲/ ص: ۹۹ “ (امداد الفتاوی: ۲/ ۳۳، کتاب الزکاة، بعنوان: جس دین کے وصول کی امید نہ ہو، اُس پر وجوب زکات کی تحقیق، ط: زکریا، دیوبند) نیز دیکھیے: فتاوی عثمانی: ۲/ ۴۶، ط: زکریا، دیوبند) (۲) زید نے جن لوگوں کو قرض دیا ہے، قرض کی وصولیابی سے پہلے اُس میں زکات کی نیت کرنے سے زکات اداء نہیں ہوگی، ہاں اگر قرض خواہ زید کی رقم واپس کردیں، پھر زید وہ رقم بطور زکات اُن کو دیدے، تو زکات اداء ہوجائے گی بشرطیکہ قرض خواہ مستحق زکات ہوں، اسی طرح اگر قرض خواہ زید کے حکم سے اُس کے قرض کی رقم کسی اور مستحق زکات کو دیدیں، تو زکات اداء ہوجائے گی، واضح رہے کہ زکات کی ادائے گی کے لیے زید کا محض کہنا کافی نہیں ہوگا؛ بلکہ قرض خواہوں کا باقاعدہ رقم مستحق زکات کو دینا ضروری ہوگا۔ (۳) اگر آپ کو شک ہے کہ مذکورہ نقد یا سامان، فطرہ یا زکات کی مد کا ہے، تو آپ دینے والے کو صاف صاف بتادیں کہ میں صاحبِ نصاب ہوں، میرے لیے زکات اور فطرہ کی رقم اور سامان کا استعمال جائز نہیں ہے۔ اگر دینے والے سے پوچھنا ممکن نہ ہو اور آپ کو شک ہو، تو احتیاط اسی میں ہے کہ آپ ایسی رقم اور کھانے کے سامان کو اپنے اور اپنے نابالغ بچوں کے استعمال میں نہ لائیں۔ (۴) اگر آپ صاحب نصاب ہیں، تو آپ کے لیے زکاة اور فطرہ کی رقم نابالغ بچوں پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے۔ ولا تدفع إلی غني یملک نصاباً من أي مالٍ کان وعبدہ وطفلہ؛ لأنہ یعد غنیًا بغناء أبیہ عرفًا۔ (مجمع الأنہر ۱/ ۲۲۴ دار إحیاء التراث العربي بیروت) ولایجوزدفعہا إلی ولد الغني الصغیر کذا في التبیین۔ (الفتاوی الہندیة ۱/ ۱۸۹ دار إحیاء التراث العربي بیروت)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند