• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 67251

    عنوان: جس رقم پر سال نہیں گزرا اس کی زکات؟

    سوال: میں تین رمضان کو ہر سال اپنی زکاة کا حساب کرتاہوں ،الحمد للہ، میرے پاس پورے سال پانچ لاکھ کی ملکیت رہتی ہے، رمضان سے دس مہینے پہلے میری نوکرلگی۔ سوال یہ ہے کہ زکاة کے لیے سال گذارنا ضروری ہے اور پھر ہر مہینے کی تنخواہ کو ایک مہینے بعد ایک سال ہوگا تو پھر زکاة کیسے نکالیں؟ اور کس کس پیسہ پر زکاة دینی ہوگی ؟ جزاک اللہ خیرا۔

    جواب نمبر: 67251

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1234-1352/N37=1/1438 وجوب زکوة کے لیے جو سال گذرنا شرط ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے پاس کم از کم نصاب کے بقدر مال زکوة سال کے شروع میں اور سال کے اخیر میں پایا جائے اور درمیان سال میں اس کا کچھ حصہ، مثلاً دو چار روپے باقی رہے، مکمل طور پر نصاب ختم نہ ہوجائے ، پس اگر سال کے کسی مہینہ یا تاریخ میں کچھ بھی نصاب باقی نہیں رہا، یعنی: ایک دو روپے بھی باقی نہیں رہے تو سال کا حساب ختم ہوجائے گا اور دوبارہ نصاب مکمل ہونے کے بعد سال کا حساب شروع ہوگااور نصاب یا اس کا کچھ حصہ باقی رہتے ہوئے درمیان سال میں موجود نصاب کی جنس کا جو نیا مال آئے گا ، اس پر الگ سے سال کا حساب نہیں ہوگا؛ بلکہ وہ پہلے موجود نصاب کے ساتھ شامل ہوجائے گا اور اُس کا سال مکمل ہونے پر اِس نئے مال پر بھی حکماً سال مکمل شمار کیا جائے گا ، پس جس تاریخ میں آپ کی زکوة کا سال مکمل ہوتا ہے (مثلاً ۳/ رمضان)، اس تاریخ میں آپ کے پاس سونا، چاندی، کرنسی اور مال تجارت میں سے جو کچھ موجود ہو، اس کی کل مالیت کا چالیسواں حصہ زکوة میں دیدیا کریں اور جو مال اس تاریخ سے پہلے آپ یا آپ کے بچوں وغیرہ کی ضروریات میں خرچ ہوکر ختم ہوگیا، زکوة میں اس کا حساب لگانے کی ضرورت نہیں۔ وشرط کمال النصاب … في طرفي الحول فی الابتداء للانعقاد وفی الانتھاء للوجوب فلا یضر نقصانہ بینھما، فلو ھلک کلہ بطل الحول (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب زکاة المال، ۳: ۲۳۳، ۲۳۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ:”فلو ھلک کلہ“: أي: في أثناء الحول بطل الحول، حتی لو استفاد فیہ غیرہ استأنف لہ حولاً جدیداً (رد المحتار)،ونقصان النصاب فی الحول لا یضر إن کمل في طرفیہ، أي: إذا کان النصاب کاملاً فی ابتداء الحول وانتھائہ فنقصانہ فیما بین ذلک لا یسقط الزکاة،…… إلا أنہ لا بد من بقاء شیٴ من النصاب الذي انعقد علیہ الحول لیضم المستفاد إلیہ؛ لأن ھلاک الکل یبطل انعقاد الحول؛ إذ لا یمکن اعتبارہ بدون المال (تبیین الحقائق۱: ۲۸۰، ط: المکتبة الإمدادیة، ملتان، باکستان)، قولہ:”إلاإلا أنہ لا بد من بقاء شیٴ من النصاب الخ “:حتی لو بقي درھم أو فلس منہ ثم استفاد قبل فراغ الحول حتی تم علی نصاب زکاہ اھ، فتح (حاشیة الشلبي علی التبیین)، والمستفاد ولو بھبة أو إرث وسط الحول یضم إلی نصاب من جنسہ فیزکیہ بحول الأصل (لدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب زکاة الغنم، ۳: ۲۱۴)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند