• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 66647

    عنوان: کیا پورے سال میں زکاة کی رقم تقسیم کرنا ٹھیک ہے؟

    سوال: کیا پورے سال میں زکاة کی رقم تقسیم کرنا ٹھیک ہے؟مثال کے طورپر میرے پاس 100,000روپئے زکاة کی رقم ہے، ان میں سے 60,000 روپئے رمضان میں تقسیم کرتاہوں، اور بقیہ 40,000 رقم اپنے پاس رکھ لیتاہوں پورے سال تقسیم کرنے کے لیے ، کیوں کہ کبھی کبھی لوگ دوسرے مہینوں میں بھی زکاة کے لیے آتے ہیں۔ اور اگر کسی وجہ سے میں یہ بقیہ رقم یا اس کاکچھ حصہ پورے سال میں ادا نہ کرسکوں تو کیا میں اس کو اگلے سال کی زکاة میں شامل کرکے تقسیم کرسکتاہوں؟

    جواب نمبر: 66647

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 846-864/sd=10/1437

    زکاة فرض ہونے کے بعدبلا عذر تاخیر کرنا صحیح نہیں ہے، فورا ہی صحیح مصرف میں زکات کی رقم خرچ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، صورت مسئولہ میں زکاة فرض ہونے کے بعد ساٹھ ہزار روپے رمضان میں نکالنے اور چالیس ہزار روپے پورے سال میں نکالنے سے اگرچہ زکاة اداء ہوجائے گی؛ لیکن اس میں ادائے گی زکاة میں بہت زیادہ تاخیر کرنا ہے، اس لیے پورے سال تقسیم کرنے کے بجائے جلد ہی زکات کی رقم مصرف میں خرچ کر کے اپنا ذمہ فارغ کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔ تاہم اگر کسی وجہ سے وقت پر زکات نکالنے میں تاخیر ہوجائے اور پورے سال زکاة اداء نہ کی جائے، تو اگلے سال کی زکاة کے ساتھ ساتھ گزشتہ سال کی بھی زکاة دی جاسکتی ہے۔ وتجب علی الفور عند تمام الحول حتی یأثم بتأخیرہ من غیر عذر۔ (الفتاویٰ الہندیة ۱/۱۷۰)وافتراضہا عمري : أي علی التراخي وصححہ الباقاني وغیرہ، وقیل فوري: أی واجب علی الفور وعلیہ الفتویٰ، کما في شرح الوہبانیة، فیأثم بتأخیرہا بلاعذر۔ قولہ: فیأثم بتأخیرہا … وقد یقال: المراد أن لایوٴخر إلی العام القابل، لما في البدائع عن المنقی: إذا لم یوٴدِّ حتی مضی حولان، فقد أساء وأثم۔ (الدر المختار مع الرد المحتار، کتاب الزکاة ۲/۲۷۲ کراچی، بدائع الصنائع، الزکاة / في کیفیة فرضیة الزکاة ۲/۷۷ زکریا، کذا في الفتاویٰ التاتارخانیة ۳/۱۳۴ رقم: ۳۹۳۸ زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند