• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 66609

    عنوان: میری بیوی کے پاس 84.06 گرام سوناہے، یہ ساڑھے سات تولہ سونا سے کم ہے، اس کے علاوہ اس کے پاس آٹھ ہزا روپئے پاکستانی روپئے ہیں، تو کیا اس پر زکاة واجب ہوگی؟

    سوال: میری بیوی کے پاس 84.06 گرام سوناہے، یہ ساڑھے سات تولہ سونا سے کم ہے، اس کے علاوہ اس کے پاس آٹھ ہزا روپئے پاکستانی روپئے ہیں، تو کیا اس پر زکاة واجب ہوگی؟دوسری بات یہ ہے کہ اس کے پاس یہ نقد اکیس سال سے ہے تو کیا اس پر اکیس سال کی زکاة واجب ہوگی؟ یا صرف ایک سال کی زکاة ہوگی ؟ آج کے حساب سے ہر سال کی زکاة کتنی ادا کرنی ہوگی؟اگر وہ آج کے زمانے کی قیمت کے حساب سے زکاة کرتی ہے تو اس کو زکاة ادا کرنے کے لیے پچاس فیصد سے زیادہ سونا بیچنا پڑے گا۔ براہ کرم، جواب دیں۔

    جواب نمبر: 6660901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1015-1015/M=10/1437 صورت مسئولہ میں سونے کی قیمت کو روپئے کے ساتھ ملانے کی صورت میں چاندی کے نصاب کی قیمت کو پہنچ جاتی ہے اس لیے آپ کی بیوی پر زکوة واجب ہے، اور مذکورہ سونا اور نقد روپئے اگر اکیس سال سے بیوی کے پاس ہے یعنی ہر سال وہ صاحب نصاب رہتی ہے تو ہر سال کی زکوة الگ الگ واجب ہے صرف ایک سال کی زکوة ادا کردینا کافی نہیں، زکوة میں چالیسواں حصہ نکالا جاتاہے اگر زکوة میں بعینہ سونا نکالتے ہیں تو ہر سال سے اتنا سونا وضع کرتے جائیں جتنا نکالیں گے اور اگر الگ سے روپئے کی شکل میں نکالتے ہیں اور مذکورہ سونا اور نقد جوں کا توں موجود رہتا ہے تو ہر سال مکمل کی زکوة نکالیں اور قیمت کے اعتبار سے زکوة نکالنے میں ہر سال کی جو قیمت ہوگی وہ معتبر ہوگی، آج کی قیمت کا اعتبار امسال کی زکوة میں کریں گے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند