• عبادات >> زکاة و صدقات

    سوال نمبر: 66600

    عنوان: كيا سونا فروخت كرنے كا ارادہ ہو تو بھی زکاة واجب ہوگی؟

    سوال: میرے پاس آٹھ تولہ سے زیادہ سوناہے، میں ایک خاتون خانہ ہوں، مجھے میرے شوہر پیسے دیتے ہیں، میرے شوہر کا اپنا گھر نہیں ہے، وہ اپنے گھروالوں کی مدد بھی کرتے ہیں جس میں ان کے والدین ، دو غیر شادی شدہ بھائی اور ایک بہن ہیں، اس لیے وہ اپنی کمائی سے زیادہ نہیں بچا سکتے ہیں، اگر ہم کچھ سال کے بعد اپنے لیے گھر خریدیں تو میں اس کے لیے اپنا سونا بیچ سکتی ہوں،تو کیا مجھ پر زکاة واجب ہے؟ساڑھے ساتھ تولہ سے زیادہ جو سونا ہے اس کی زکاة دینی ہوگی یا پورے سونے پر زکاة ہے؟

    جواب نمبر: 66600

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 842-815/Sd=10/1437

     

    جب تک آپ ساڑھے سات تولہ سونا یا اس سے زائد کی مالک رہیں گی، آپ پر سال گذرنے کے بعد زکاة فرض ہوگی،چند سالوں کے بعد گھر خریدنے کے لیے اگر آپ کا ارادہ سونا فروخت کرنے کا ہے ، تو اس کی وجہ سے زکاة کی فرضیت ساقط نہیں ہوگی ،صورت مسئولہ میں ساڑھے سات تولہ سے زیادہ جو سونا ہے، صرف اسی پر زکاة فرض نہیں ہوگی؛ بلکہ سال گذرنے پر پورے آٹھ تولہ سونے کی زکاة فرض ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند